.

آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی.. امریکا کا ایران کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) کے ترجمان پیٹر ُکک کا کہنا ہے کہ "واشنگٹن عالمی معیشت کے لیے اس قدر اہمیت کی حامل سمندری گزرگاہ کو بند کرنے کی کسی بھی کوشش کے ساتھ بھرپور انداز سے نمٹے گا"۔

جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں ُکک کا کہنا تھا کہ "امریکا بین الاقوامی قوانین کے مطابق آبنائے ہرمز میں اپنے طیاروں اور بحری جہازوں کی نقل وحرکت کو جاری رکھے گا"۔ یہ ردعمل ایرانی پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر حسین سلامی کے اس بیان کے جواب میں سامنے آیا ہے جس میں سلامی نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران کے امن کو خطرہ ہوا تو امریکی بحری جہازوں اور اس کے حلیفوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے نہیں دیا جائے گا"۔

پینٹاگون کے ترجمان نے زور دے کر کہا کہ "دنیا کے اس حصے میں ہماری فوجیں تجارتی آمد ورفت کی آزادی کی ضمانت اور امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے موجود ہیں"۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر نے بدھ کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ" ایران ان بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گا جو اس کے امن کے لیے خطرہ ہوں گے"۔

سلامی کے مطابق ایران ایسا اس وقت کرے گا اگر کانگریس میں اس قرارداد کے منصوبے کی منظوری دے دی جاتی ہے جس میں خلیج کے پانی میں ایرانی مشقوں پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔