.

خامنہ ای کا مشیر دمشق میں.. حلب میں ایرانی افسران ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کے مشیر علی ولایتی نے دمشق میں شامی صدر بشار الاسد سے ملاقات کی ہے۔ اس دوران انہوں نے تہران کی جانب سے اپنے حلیف کی سپورٹ جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔ دوسری جانب جمعہ کے روز حلب کے نواحی علاقے خان طومان میں لڑائی کے دوران ایرانی پاسداران انقلاب کے کم از کم 3 افسران کے مارے جانے کی خبریں گردش میں ہیں۔

ایرانی ایجنسی "تسنيم" کے مطابق بشار الاسد نے ہفتے کی صبح ولایتی کا استقبال کرتے ہوئے ایران اور مرشد اعلی کی جانب سے شامی حکومت کی حمایت اور معاونت پر شکریہ ادا کیا۔

ادھر ولایتی نے شامی حکومت کے لیے ایران کی سپورٹ جاری رہنے پر زور دیا۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ شدت پسند اپوزیشن اور اعتدال پسند اپوزیشن کے درمیان فرق کرنا ایک "مضحکہ خیز امر" ہے۔

ایرانی مرشد کے مشیر نے جمعہ کے روز صحافیوں کو دیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ "شامی حکومت کے سربراہ ہمارے لیے سرخ لکیر کی حیثیت رکھتے ہیں، جنہیں اپنے منصب پر باقی رہنا چاہیے"۔ ولایتی کے مطابق روس کابھی بشار الاسد کے حوالے سے یہ ہی نقطہ نظر ہے اور وہ ان کے اپنے منصب پر باقی رہنے کے لیے مصر ہے۔ روسی اس بات کے قائل ہیں کہ بشار الاسد اور ان کی حکومت کا کوئی متبادل نہیں ہے۔

ولایتی نے واضح کیا کہ اگر بشار کو اقتدار سے ہٹایا گیا تو شام کی صورت حال "لیبیا کی موجودہ صورت حال سے کہیں زیادہ دشوار اور سنگین ہوجائے گی"۔

دوسری جانب زمینی صورت حال کے حوالے سے ایرانی ویب سائٹوں نے بتایا ہے کہ جمعہ کے روز حلب کے نواح میں واقع خان طومان اور دیگر قصبوں اور دیہاتوں میں شدید لڑائی کے دوران کم از کم 3 ایرانی افسران مارے گئے۔ ان کے نام کرنل رحیم کابلی، کیپٹن محمد بابلسی اور لیفٹننٹ رضا حاجی زادہ ہیں۔ ان تمام اہل کاروں کا تعلق ایران کے شمالی صوبے مازندران میں پاسداران انقلاب سے ہے۔