حلب میں جنگ بندی میں توسیع کے بعد شہریوں کی واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے شمالی شہر حلب میں جاری جنگ بندی میں بہتر گھنٹے کی توسیع کے بعد بے گھر خاندانوں نے لوٹنا شروع کردیا ہے اور تعلیمی ادارے بھی دو ہفتے تک بند رہنے کے بعد دوبارہ کھل گئے ہیں۔

حلب میں گذشتہ پندرھواڑے کے دوران شامی باغیوں اور اسدی فوج کے درمیان لڑائی اور فضائی حملوں میں تین سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔جمعرات کو فریقین کے درمیان عارضی فائربندی ہوئی تھی۔اس کے تحت شامی فوج نے شہر میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر فضائی حملے روک دیے تھے اور باغیوں نے بھی فوج کے زیر قبضہ علاقوں پر گولہ باری بندی کردی تھی۔

باغیوں کے زیر قبضہ حلب کے مشرقی حصوں میں اسکول دوبارہ کھل گئے ہیں اور طلبہ نے جماعتوں میں آنا شروع کردیا ہے۔ایک طالب علم نے بتایا ہے کہ شہر میں شدید بمباری کی جارہی تھی جس کے بعد ہمارے خوف زدہ والدین نے ہمیں اسکول بھیجنا چھوڑ دیا تھا۔

حلب کے مغربی علاقے میں اتوار کو باغی گروپوں کی جانب سے گولہ باری کی اطلاعات ملی ہیں مگر ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔روسی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ شہر میں صورت حال کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے جنگ بندی میں بہتر گھنٹے کی توسیع کردی گئی ہے۔جنگ بندی کی پہلی اڑتالیس گھنٹے کی مدت ختم ہونے سے قبل ہی یہ اعلان کیا گیا ہے۔

وزارت دفاع نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ سات مئی کی شب بارہ بجے سے صوبہ اللذاقیہ اور حلب شہر میں جنگ بندی کی توسیع کی گئی ہے۔مبصرین نے اس فیصلے کے بعد اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس سے تنازعے کے حل کے لیے امن مذاکرات کی بحالی میں مدد ملے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں