.

اسدی فوج کی مشرقی الغوطہ پر بمباری، باغیوں سے لڑائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج اور اس کے اتحادیوں نے دارالحکومت دمشق کے نواح میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر گولہ باری کی ہے اور ان کی باغیوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے سوموار کو اطلاع دی ہے کہ ''مشرقی الغوطہ میں واقع قصبے اربعین میں مارٹر گولوں کے حملے میں بیس افراد زخمی ہوگئے ہیں،ان میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔الدوما شہر پر گولہ باری سے ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے''۔

مشرقی الغوطہ میں شامی فوج نے گذشتہ ہفتے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن اب وہاں دوبارہ لڑائی چھیڑ دی ہے جس کے بعد علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔قبل ازیں اس علاقے میں بعض باغی گروپوں کے درمیان باہمی لڑائیاں بھی ہوئی ہیں۔

حلب میں لڑائی

ادھر شمالی شہر حلب کے نواح میں شامی فوج اور اس کے اتحادیوں کی مزاحمت کاروں سے جھڑپیں ہوئی ہیں اور لڑاکا طیاروں نے تزویراتی اہمیت کے حامل قصبے خان طومان کے ارد گرد بمباری کی ہے۔اس قصبے پر گذشتہ ہفتے اسلام پسند باغیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔حالیہ مہینوں کے دوران صوبہ حلب میں شامی فوج اور اس کی اتحادی ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی باغیوں سے لڑائی میں یہ ایک بڑی شکست ہے اور اس میں بہت سے ایرانی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔

شامی رصدگاہ کے مطابق لڑاکا طیاروں نے اس قصبے کے نواح میں آج بھی حملے جاری رکھے ہیں اور اتوار کی صبح سے نوّے سے زیادہ فضائی حملے کیے جاچکے ہیں۔

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے زیرانتظام المنار ٹیلی ویژن نے اطلاع دی ہے کہ فوجیوں نے خان طومان میں باغیوں کے ایک ٹینک کو تباہ کردیا ہے اور اس پر سوار بعض جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔یہ قصبہ حلب شہر کے بالکل متصل جنوب مغرب میں واقع ہے۔

رصدگاہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ روس کی جانب سے حلب میں جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے باوجود آج لڑاکا طیاروں نے شہر میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر بمباری کی ہے جبکہ باغیوں نے حکومت کے کنٹرول والے علاقے پر گولے برسائے ہیں۔

جان کیری کی پیرس آمد

درایں اثناء امریکی وزیر خارجہ جان کیری پیرس پہنچے ہیں جہاں وہ اپنے فرانسیسی ہم منصب ژاں مارک آیورو سے شامی تنازعے کے بارے میں بات چیت کریں گے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کے تحت فورسز اور ان کے اتحادیوں نے اسپتالوں اور مہاجر کیمپوں پر بمباری کی ہے۔حلب میں داعش نہیں بلکہ اعتدال پسند حزب اختلاف کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ آج کے اجلاس میں روس سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ بشارالاسد پر حملے روکنے کے لیے دباؤ ڈالے اور ضرورت مند افراد تک انسانی امداد پہنچنے دے۔انھوں نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا:''بات چیت بحال ہونی چاہیے اور مذاکرات ہی بحران کے خاتمے کا واحد حل ہیں''۔

برطانیہ ،جرمنی ،اٹلی ،سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ،قطر ،اردن ،ترکی اور یورپی یونین کے وزرائے خارجہ اور نمائندوں کو بھی پیرس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔مغرب کی حمایت یافتہ شامی حزب اختلاف کے اتحاد کے سربراہ ریاض حجاب بھی اس اجلاس میں شرکت کررہے ہیں اور اس میں شامی امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

جان کیری منگل کے روز پیرس ہی میں جرمن وزیر خارجہ فرینک والٹر اسٹینمائیر سے ملاقات کریں گے اور اس کے بعد وہ وہاں سے برطانیہ روانہ ہوجائیں گے۔