.

بیروت: بلدیاتی انتخابات میں سعد حریری کے پینل کی جیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں منعقدہ بلدیاتی انتخابات میں سابق وزیر اعظم سعد حریری کے حمایت یافتہ امیدوار بھاری اکثریت سے جیت گئے ہیں اور انھوں نے اپنے مدمقابل نوآموز تحریک ''بیروت میرا شہر'' کے امیدواروں کو شکست دے دی ہے۔

بیروت ،شام کے نزدیک واقع وادی بقاع اور بعلبک ،الہرمل میں بلدیاتی انتخابات کے لیے اتوار کو ووٹ ڈالے گئے تھے۔مقامی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق سعد حریری کے حمایت یافتہ جمال عطانی کی قیادت میں ''بیروتس'' پینل نے فیصلہ کن فتح حاصل کی ہے۔

لبنان میں سنہ 2009ء کے بعد یہ پہلے بلدیاتی انتخابات ہیں۔یہ انتخابات 2013ء میں ہونا تھے لیکن پڑوسی ملک شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں لبنان میں عدم استحکام کی وجہ سے یہ دو مرتبہ موخر کردیے گئے تھے۔ملک کے باقی علاقوں میں آیندہ دو ہفتوں کے دوران بلدیاتی کونسلوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔

مقامی میڈیا نے بتایا ہے کہ بیروت میں میونسپل کونسل کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالنے کی شرح 20 فی صد کے لگ بھگ رہی ہے۔تاہم ابھی سرکاری سطح پر انتخابی نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

بیروت میں میونسپل کونسل کی چوبیس نشستوں کے انتخاب کے لیے دو بڑے گروپوں سعد حریری کی حمایت یافتہ مستقبل تحریک اور بیروت میرا شہر''(بیروت مدینتی) کے درمیان اصل مقابلہ تھا۔

''بیروت میرا شہر'' نے دارالحکومت میں گذشتہ مہینوں کے دوران کچرے کے ڈھیروں کو ٹھکانے لگانے کے لیے چلائی گئی مہم کے دوران زور پکڑا تھا۔بعض مبصرین نے اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ یہ تحریک بلدیاتی انتخابات میں واضح اکثریتی حاصل کرسکتی ہے لیکن اس کے امیدوار کوئی نمایاں کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

تاہم اس کے قائدین کا کہنا ہے کہ وہ عوامی شعور اجاگر کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور انھوں نے اپنی ہار کو بھی ایک فتح قراردیا ہے۔اس تحریک کے امیدوار فلم ڈائریکٹر ندین لاباقی نے ایک مقامی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم جیت گئے ہیں۔آپ یہ ماحول اور ان نوجوانوں کی طرف دیکھیں،یہ تمام امید اور زندگی کا استعارہ ہیں۔بیروت میں وہ امید ہے جس کا ہم نے خواب دیکھا تھا اور ہم جیت گئے ہیں''۔

لبنان میں 1990ء میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سے اب تک منعقدہ بلدیاتی انتخابات میں روایتی طور پر مختلف سیاسی جماعتیں نشستیں حاصل کرتی رہی ہیں اور کوئی بھی جماعت تنہا بیروت کونسل کے گذشتہ انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی۔