.

داعش کے خلاف جنگ میں "عالمی اتحاد" کی سپورٹ حاصل نہیں: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے داعش کے خلاف برسرجنگ بین الاقوامی اتحاد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیم کے خلاف ترکی کو سپورٹ نہیں کر رہا۔ اتوار کے روز استنبول میں خطاب کرتے ہوئے ایردوآن نے کہا کہ انہوں (اتحاد) نے ترکی کو چھوڑ دیا ہے کہ وہ تنہا داعش کے خلاف لڑے۔

ترکی کے صدر نے نام لیے بغیر یورپی ممالک پر الزام عائد کیا کہ ان ممالک نے شامی مہاجرین کے لیے اپنے دروازے بند کر دیے محض اس وجہ سے یہ مہاجرین ان کے لیے تشویش کا ذریعہ بن رہے تھے۔

رجب طیب ایردوآن کا مزید کہنا تھا کہ "شام میں داعش کے خلاف لڑنے کا دعویٰ کرنے والوں میں کوئی بھی ایسا نہیں جس نے داعش کو اتنا نقصان پہنچایا ہو جتنا ہم نے پہنچایا ہے۔ نہ کسی نے وہ بھاری قیمت چکائی جو ہم نے ادا کی ہے۔ ان لوگوں نے ہمیں تنظیم کے خلاف لڑائی میں تنہا چھوڑ دیا ہے۔ اس کا نتیجہ کبھی خودکش دھماکوں کی شکل میں اور کبھی کیلیس (شام کی سرحد کے نزدیک واقع شہر) پر حملوں کی صورت میں ہمیں تکلیف دے رہا ہے۔ جب ترکی نے مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھولے تو انہوں نے اپنے دروازے بند کر ڈالے محض اس بنیاد پر کہ مہاجرین ان کے لیے تشویش کا باعث بن گئے ہیں۔ ان کے پاس نہ ہی رحم ہے اور نہ ہی انصاف بلکہ صرف آمریت ہے۔ ہم ایک محفوظ زون کے قیام کے ذریعے شام کے بحران کا حل چاہتے ہیں ساتھ ہی ان وجوہات کا بھی خاتمہ چاہتے ہیں جن کے سبب لوگ ہجرت پر مجبور ہو رہے ہیں، تاہم انہوں (یورپ) نے مہاجرین کے لیے ہماری پیش کش کی روش تبدیل کرنے کی کوشش کی"۔