.

حلب میں اپنے مقتولین کا انتقام لیں گے : ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی عسکری اداروں کی دو بڑی شخصیات محسن رضائی اور علی شمخانی نے پیر کے روز دھمکی دی ہے کہ وہ حلب میں مارے جانے والے اپنے اہل کاروں کا انتقام لیں گے۔ ایرانی سرکاری ویب سائٹوں کے مطابق یہ بیان جمعے کے روز شام کے شہر حلب کے جنوب مغربی قصبے خان طومان میں ایرانی فوج کے بھاری جانی نقصان (تقریبا 80 ہلاک و زخمی) کے بعد سامنے آیا ہے۔

ایران میں مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سکریٹری اور پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر جنرل محسن رضائی نے "انسٹاگرام" اکاؤنٹ پر لکھے گئے تبصرے میں کہا ہے کہ "ہر جنگ میں کامیابیاں اور ناکامیاں ہوتی ہیں اور ہر جنگ میں عروج و زول ہوتا ہے"۔ اس طرح انہوں نے حلب کے محاذ پر پاسداران انقلاب کو ہونے والی بڑی ہزیمت کا اعتراف کیا۔

قبل ازیں ہفتے کے روز بھی پاسداران انقلاب نے حلب شہر کے نزدیک ایران کے 13 فوجی مشیران کے مارے جانے کا اقرار کیا تھا جو بشار الاسد کی سپورٹ کے لیے بھیجی جانے والی ایرانی فورسز کے شام پہنچنے کے بعد سے ایک دن کے اندر ہونے والا سب سے بڑا ایرانی جانی نقصان ہے۔

ایرانی سیکورٹی ادارے کے قریب سمجھی جانے والی ویب سائٹ "تابناک" کے مطابق رضائی نے مزید کہا کہ ایرانی پاسداران انقلاب ان "تكفيریوں" کو سخت جواب دیں گے۔ وہ ہزاروں شیعہ افغانوں، عراقیوں اور پاکستانیوں کو بھرتی کرنے کے علاوہ "باسیج" فورس اور پاسداران انقلاب کو شام بھیجنے میں کامیاب رہا جس کا مقصد بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کو روکنا ہے۔ اس مشن کے لیے اس نے "مقامات مقدسہ کے دفاع" اور"تكفيریوں" کے مقابلے کو حجت بنایا ہے۔

دوسری جانب ایرانی "جرنلسٹس کلب" کی ویب سائٹ کے مطابق ایرانی مرشد اعلی کے نمائندے اور قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سکریٹری علی شمخانی کا کہنا ہے کہ ایران حلب کے جنوب مغرب میں اپنے مقتولین کا روس، بشار حکومت اور حزب اللہ کے تعاون سے انتقام لے گا۔