اسرائیلی عدالت میں 14 سالہ فلسطینی لڑکے پر فردِ جُرم عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی ایک ضلعی عدالت نے ایک کم سن فلسطینی پر قتل کی کوشش اور چاقو رکھنے کے الزام میں فرد جُرم عاید کردی ہے۔

اسرائیلی استغاثہ کے مطابق 14 سالہ احمد مناصرہ نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں گذشتہ سال مبینہ طور پر یہودیوں پرچاقو سے حملے کی کوشش کی تھی لیکن اس فلسطینی لڑکے کے والد صالح مناصرہ کا کہنا ہے کہ ''میرے بیٹے نے کسی کو چاقو گھونپنے کی کوشش نہیں کی تھی۔اس کے خلاف من گھڑت الزامات عاید کیے گئے ہیں''۔

انھوں نے ترکی کی اناطولو نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''عدالت کا فیصلہ بالکل غیر منصفانہ ہے۔احمد کو تو ایک لمحے کے لیے بھی گرفتار کیا جانا چاہیے اور نہ جیل میں رکھا جانا چاہیے تھا''۔

دوسری جانب اسرائیلی پراسیکیوٹروں کا کہنا ہے کہ احمد نے اپنے کزن حسن کے ساتھ مل کر گذشتہ سال مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی بستی شویفات میں دو اسرائیلیوں کو چاقو گھونپنے کی کوشش کی تھی۔

اسرائیلی فورسز نے پندرہ سالہ حسن مناصرہ کو موقع پر ہی گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔احمد پر یہودی آباد کار پل پڑے تھے جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا تھا۔گذشتہ سال نومبر میں احمد مناصرہ سے اسرائیلی پولیس کی تفتیش کی ایک ویڈیو بھی منظرعام پر آئی تھی جس میں اسرائیلی اہلکار اس کم سن فلسطینی کو گالیاں بک رہے تھے۔

فوٹیج میں اسرائیلی تفتیش کار احمد مناصرہ پر اعتراف جرم کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔وہ انھیں یہی جواب دے رہا تھا کہ اس کو واقعے کے بارے میں کچھ یاد نہیں ہے اور وہ ذہنی صدمے سے دوچار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں