.

داعش نے تدمر اور حمص کو ملانے والی شاہراہ کاٹ ڈالی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مانیٹر کرنے والی تنظیم کے مطابق انتہا پسند تنظیم داعش نے تاریخی اہمیت کے شہر تدمر اور حمص کو ملانے والی بڑی شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ چند ہفتے قبل بشار الاسد کی حامی فوج نے اس شہر کو داعش کے چنگل سے واگزار کرایا تھا۔

مانیٹرنگ گروپ کے مطابق داعش نے حمص اور تدمر کو ملانے والی بڑی شاہراہ کو التیفور فوجی ہوائی اڈے کے قریب حملہ کر کے بلاک کر دیا۔ یہ حملہ حمص کی مشرقی سمت سے کیا گیا۔ یاد رہے کہ داعش کی جانب سے تدمر اور حمص کو ملانے والی شاہراہ اگرچہ دونوں شہروں کو ملانے والا مرکزی راستہ ہے، تاہم اس کے علاوہ چند دیگر راستوں کے ذریعے بھی دونوں شہروں کے درمیان رابطہ بحال رکھا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے تدمر شہر کو تاریخی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔ شامی فوج نے حمص اور تدمر پر گذشتہ مارچ اپنا کنٹرول بحال کر لیا تھا جب روسی طیاروں کی مدد سے انہوں نے شہر پر حملہ کیا۔

انسانی حقوق گروپ کے مطابق 27 مارچ کو شامی فوج کے کںڑول میں جانے کے بعد سے داعش نے ایک بڑا حملہ کر کے شاہراہ کی بندش کی، جسے مبصرین ایک نمایاں جنگی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ علاقے میں شامی فوج اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ داعش کے انتہا پسندوں نے تدمر شہر کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے، تاہم شہر کا جنوب مغربی حصہ داعش کی دست برد سے تاحال محفوظ ہے۔ اطلاعات کے مطابق داعش تدمر سے صرف دس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔