.

یمن امن بات چیت: 50% گرفتار شدگان کی رہائی پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں یمنی حکومت اور باغیوں کے وفود کے درمیان جاری بات چیت میں شریک ذرائع نے بتایا ہے کہ گرفتار شدگان اور اسیران سے متعلق کمیٹی کے مذاکرات میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اس سلسلے میں تمام یمنیوں کو رہا کرنے اور رہائی کے ٹائم ٹیبل پر تیزی سے عمل درامد کرنے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے تاکہ آئندہ 20 روز کے اندر 50% یمنیوں کی رہائی عمل میں لائی جا سکے۔

اس حوالے سے ترجیحی معیارات کے مطابق کام کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے جس کے تحت پہلے سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 میں شامل افراد کو رہا کیا جائے گا۔ بعد ازاں تمام گرفتار شدگان، اسیران اور اغوا کیے گئے افراد کی رہائی کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔

"العربية" کے نمائندے کے مطابق یمن کے نائب وزیراعظم، وزیر خارجہ اور کویت میں امن بات چیت کے لیے حکومتی ٹیم کے سربراہ عبد الملك المخلافی نے منگل کی شام امریکی وزارت خارجہ میں سیاسی امور کے سکریٹری تھامس شینن سے کویت میں ملاقات کی۔ ملاقات میں یمن کے شہروں اور صوبوں سے ملیشیاؤں کے انخلاء کے اقدامات، ہتھیاروں حوالے کرنے، ریاستی ادارے واپس کیے جانے، سیاسی عمل کے احیاء اور گرفتار شدگان کی رہائی جیسے موضوعات زیربحث آئے۔

اس موقع پر المخلافی نے شینن کو کویت مشاورت میں درپیش چیلنجوں سے آگاہ کیا جو باغیوں کے وفد کی ہٹ دھرمی، فائربندی کی مسلسل خلاف ورزیوں، سابقہ وعدوں کی پاسداری سے انحراف اور امن بات چیت کے اس ایجنڈے میں رخنہ ڈالنے کا نتیجہ ہیں جو سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پر عمل درامد اور اقوام متحدہ کی جانب سے مقرر کردہ پانچ نکات کی بنیاد پر وضع کیا گیا تھا۔

ادھر کویت میں یمنی امن بات چیت میں حکومت اور باغیوں کے وفود کی سیاسی اور عسکری کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات جانبین کے نقطہ ہائے نظر کو قریب لانے کے حوالے سے بنا کسی اتفاق رائے کے اختتام پذیر ہو گئے۔

مذاکرات کے قریبی ذرائع نے "العربيہ" کو بتایا کہ سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں جو دو گھنٹے سے زیادہ جاری رہا، فریقین نے کمیٹی کی ترجیحات اور عملی ذمہ داریوں کے حوالے سے اپنے نقطہ ہائے نظر پیش کیے۔ اس دوران حکومتی وفد نے باغیوں سے ریاستی ادارے واپس لیے جانے کے اقدامات پر بات چیت اور پھر سیاسی عمل کے دوبارہ آغاز کے طریقہ کار کی جانب منتقلی کو زیربحث لانے کو ترجیح دی۔ دوسری جانب باغیوں کے وفد کا یہ اصرار رہا کہ سیاسی کمیٹی کی بات چیت کا آغاز موجودہ حکومت کی جگہ متبادل عبوری اتھارٹی کے قیام کے انتظامات سے کی جائے، اس اتھارٹی کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ طے پائے جانے والے ہر معاہدے پر عمل درامد کو یقینی بنائے۔

حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ عسکری اور سیکورٹی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والی بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

اجلاسوں کا دوبارہ آغاز

ادھر کویت میں یمن امن بات چیت کے ضمن میں تین چھوٹی ذیلی کمیٹیوں کے اجلاس کا دوبارہ آغاز، اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد کی براہ راست نگرانی میں ہوا۔

ان اجلاسوں میں تمام شہروں سے ملیشیاؤں اور ملسح جماعتوں کے انخلاء، ہتھیاروں کی حوالگی، گرفتارشدگان اور اسیران کی رہائی کے انتظامات، ریاستی اداروں کی واپسی اور سیاسی عمل کے دوبارہ شروع کیے جانے کے موضوعات زیربحث آئے۔

دوسری جانب میدان جنگ میں حوثی ملیشیا نے دارالحکومت صنعاء میں عسکری طور پر ہائی الرٹ کا نفاذ کر دیا۔ نیوز ایجنسی مارب پریس کے مطابق شہر کی سڑکوں پر تھوڑے فاصلے سے درجنوں چیک پوائنٹس بنا دی گئی ہیں اور سواریوں کی باریک بینی کے ساتھ تلاشی لی جا رہی ہے۔

ادھر حوثی ملیشیا نے صنعاء کے شمال مغرب میں المحویت صوبے کے علاقے الرجم میں مزید کمک پہنچا دی ہے جس میں بکتربند گاڑیاں، ٹینک اور فوجی ٹیمیں شامل ہیں۔ المحویت کا محاذ اس لحاظ سے اہم شمار کیا جارہا ہے کہ یہاں عوامی مزاحمت کاروں، سرکاری فوج اور حکومت کے حامی قبائل کی نقل و حرکت دیکھی جارہی ہے جس سے باغیوں پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تعز پر گولہ باری

حوثی اور معزول صدر صالح کی ملیشیاؤں کی جانب سے یمن میں جنگ بندی کی اعلانیہ خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران تعز شہر کے رہائشی علاقوں کو اندھادھند گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں متعدد شہری جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔

باغی ملیشیاؤں کی جانب سے تعز کے مشرقی، شمالی اور مغربی محاذوں پر عوامی مزاحمت کاروں اور سرکاری فوج کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی۔

اس کے علاوہ باغی ملیشیاؤں نے تعز کا محاصرہ جاری رکھتے ہوئے شہر کے داخلی راستوں کی بندش کی ہوئی ہے اور شہر میں بنیادی ضروریات کی اشیاء کے داخلے کو روکا ہوا ہے۔