.

شامی انٹیلجنس کے ہاتھوں بشار کا تختہ الٹے جانے کا منظرنامہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشار الاسد کے انجام کے حوالے سے امریکی، روسی اور بین الاقوامی مواقف کے درمیان فاصلے کے ساتھ ساتھ ان میں پراسراریت کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ روسی افواج کی جانب سے شامی اپوزیشن کے خلاف بشار کی فورسز کی سپورٹ جاری ہے۔ شام کا بحران، ریاستی اداروں کے دفاع کے جواز اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حیلوں کے درمیان معلق ہے۔ روس شامیوں کی زندگی کے کھاتے میں اپنے مفادات کا دفاع کر رہا ہے۔ اس دوران آخری لمحوں میں ایک ایسا منظرنامہ بھی سامنے آسکتا ہے جس میں شامی بحران کے ایک "جادوئی" حل کے طور پر، بشار الاسد کا انٹیلجنس ادارہ شامی صدر کا گھیراؤ کر کے اس کا تختہ الٹ سکتا ہے۔

اس امکان کا ذکر اپوزیشن کے "شام" نیوز نیٹ ورک کی جانب سے کیا گیا ہے۔ اس کی بنیاد یہ مفروضہ ہے کہ بشار الاسد راہ فرار اختیار کرنے اور "اپنے افسران اور فوجی اہل کاروں کو میدان جنگ میں چھوڑ دینے" کی تیاری کر کے حیران کرسکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مثلا فضائیہ کے انٹیلجنس کے سربراہ "صدارتی محل کا محاصرہ" کرلیں گے۔ شامی اپوزیشن کی نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں اس منظرنامے کو پیش کرتے ہوئے یہ سوال بھی سامنے رکھا ہے کہ "اگر سیکورٹی ایجنسیاں بشار الاسد کاتختہ الٹ دیں تو کیا ہوگا"؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ منظرنامہ "شام کے بحران سے نکلنے کے لیے عالمی برادری کے لیے" قابل قبول ہوگا۔ بالخصوص ان "خواب آور گولیوں" کے بدلے جو "ریاستی اداروں اور آئین" کی حفاظت سے متعلق عبارتوں کو روک نہیں پا رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق عالمی برادری کے بہت سے فریقوں کو شام میں "ریاستی اداروں کے سقوط" کا اندیشہ ہے۔ رپورٹ میں اس حوالے سے پھیلے غلط تصورات کی اس بنیاد پر نفی کی گئی ہے کہ شام میں بحران کے حل سے متعلقہ فریق جن اداروں کے سقوط کی بات کررہے ہیں وہ "تمام شہریوں کو سیکورٹی اداروں کی چاہت کے سامنے جھکانے والے ادارے ہیں اور یہ ادارے ملیشیاؤں اور مافیاؤں کے سوا کچھ نہیں۔ لہذا یہ کن اداروں سے متعلق اندیشوں کا شکار ہیں"؟

یاد رہے کہ شام کے بحران کے ابتدائی مراحل میں مختلف ذرائع نے بشار الاسد کے افسران اور فوجیوں پر براہ راست ضرب لگانے کے حوالے سے شدید بے چینی کا اظہار کیا تھا اور باور کرایا تھا کہ اس سے یہاں اور وہاں جنگوں کے چھڑ جانے کا خطرہ پیدا ہوجائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بشار کے ہمنواؤں کی صفوں میں مزید لوگ مارے گئے، ملک کی تباہی اور بربادی کا شکار افراد میں اضافہ ہوا اور بچ جانے والے افراد پناہ گزین بن گئے اور بے گھر ہوگئے۔