.

ہراسیت کے اسکینڈل.. ایرانی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے سربراہ مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے سربراہ محمد سرفراز اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ سرفراز کے استعفے کا اعلان کارپوریشن اور اس کے زیرانتظام ذرائع ابلاغ میں بعض ذمہ داران کی جانب سے خواتین اہل کاروں کے خلاف جنسی ہراسیت کے اسکینڈلز کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس دوران انگریزی زبان کے سرکاری چینلPress TV کی ایک خاتون میزبان نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں چینل کے سابق ڈائریکٹر اور محمد سرفراز کے سابق معاون حميد رضا عمادی نے جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔

خاتون میزبان شینا شیرانی نے رواں سال فروری میں ٹی وی انٹرویوز اور سوشل میڈیا پر جاری آڈیو کلپس اور ٹیکسٹ میسجز کے ذرِیعے بتایا تھا کہ پریس ٹی وی میں نیوز کے شعبے کے ڈائریکٹر حمید رضا عمادی اور اسی چینل میں اسٹوڈیو ڈائریکٹر بیام افشار نے کئی مرتبہ شینا کو جنسی اور زبانی طور پر ہراساں کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں وہ ملازمت چھوڑ کر بیرون ملک جانے اور اپنے ذمہ داران کے گھناؤنے کردار کو سامنے لانے پر مجبور ہوئیں۔

اس سلسلے میں "فرہنگ نیوز" نامی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اخلاقی دیوالیے پن اور بعض خواتین اہل کاروں کے ساتھ جنسی ہراسیت کے واقعات کی روش کا آغاز 2014 میں محمد سرفرار کے براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی سربراہی سنبھالنے کے بعد ہوا۔

یاد رہے کہ حميد رضا عمادی اور ان کے ساتھی محمد سرافراز کا نام، 2012 سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے سبب بین الاقوامی پابندیوں کی فہرست میں شامل کرلیا گیا تھا۔

گزشتہ دسمبر میں انصاف کی یورپی عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ "انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری اعترافات اور رپورٹوں کی تیاری میں شرکت اور ایرانی انٹیلجنس اداروں کے تعاون سے سیاسی گرفتار شدگان پر جھوٹے الزامات عائد کرنے" جیسے معاملات میں ملوث ہونے کے سبب مذکورہ دونوں ذمہ داران کے خلاف پابندیاں برقرار رکھی جائیں۔

ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کی جانب سے براڈکاسٹنگ کارپوریشن کا نیا سربراہ مقرر کرنے تک محمد سرفراز کے معاون علی عسکری نے کاپوریشن کے انتظامی امور کو سنبھال لیا ہے۔ علی خامنہ ای ہر دس برس بعد براڈکاسٹنگ کارپوریشن کا نیا سربراہ مقرر کرتے ہیں۔

ایران میں اصلاح پسندوں کے زیرانتظام ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ علی خامنہ ای اپنے سمدھی (بیٹے کے سسر) غلام علی حداد عادل کو براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی سربراہی کی ذمہ داری سونپیں گے۔ تہران میں سخت گیروں کے پینل کے سربراہ غلام علی کو پارلیمانی انتخابات میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔