.

ایرانی بحریہ شام میں.. قیدیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب میں بحریہ کی فورس کے کمانڈر ایڈمرل علی فدوی نے بحریہ کے خصوصی یونٹوں کو شام کے ساحل پر بھیجے جانے کا انکشاف کیا ہے۔ اسی دوران ایران "جيش الفتح" کے ساتھ مذاکرات بھی کررہا ہے تاکہ ایرانی قیدیوں اور ان مقتولوں کی لاشوں کی واپسی ہوسکے جو جمعہ 6 اپریل کو خان طومان میں لڑائی کے دوران مارے گئے تھے۔

شام کے ساحلوں پر ایرانی بحریہ کی فورس کی موجودگی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے فدوی نے کہا کہ " اسلامی انقلاب کی سرحدیں نہیں ہوا کرتیں، جہاں بھی ضرورت پڑی تو انقلاب کے دفاع کے لیے وہاں پاسداران موجود ہوں گے"۔

ایران کے "جيش الفتح" کے ساتھ مذاکرات

دوسری جانب ایرانی مجلس شوری کے رکن اور قومی سلامتی کی کمیٹی کے ترجمان نوذر شفیعی نے تصدیق کی ہے کہ ایران "جيش الفتح" (شام میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے اسلامی گروپوں کا اتحاد) کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ مذاکرات کا مقصد ایرانی پاسداران سے تعلق رکھنے والے ایرانی اسیران کی رہائی کو یقینی بنانا ہے جو حلب کے نواحی قصبے خان طومان کی لڑائی کے بعد تنظیم کے ہاتھوں قیدی بنا لیے گئے تھے۔

ایرانی ویب سائٹوں کے مطابق مذاکرات میں اسی لڑائی کے دوران مارے جانے والے پاسداران انقلاب کے 13 اہل کاروں کی لاشیں حوالے کرنے کا معاملہ بھی شامل ہے۔

شفیعی نے بدھ کے روز "ميزان" نیوز ایجنسی کو بتایا کہ "اس بات کا امکان ہے کہ شام میں سخت گیر جماعتیں ایرانی قیدیوں کو رہا کردیں"۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ پاسداران انقلاب اور قومی سلامتی کونسل سمیت ایران کے سیکورٹی اور عسکری ادارے قیدیوں کی رہائی کے عمل کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ میں امن اور دفاع کی کمیٹی کے سربراہ اسماعیل کوثری نے انکشاف کیا تھا کہ ایرانی فورسز کے کم از کم 6 اہل کار "جيش الفتح" کی قید میں ہیں۔ ادھر "الحزب الاسلامی التركستانی" نامی گروپ نے بدھ کے روز ایک وڈیو کلپ جاری کیا تھا جس کے بارے میں اس کا دعوی ہے کہ یہ خان طومان میں قیدی بنائے گئے ایرانی جنگجوؤں کی ہے۔ وڈیو کلپ میں قیدیوں کی تصاویر، ان کی ذاتی اشیاء اور دستاویزات کو دکھایا گیا۔