.

اسرائیل کی جانب سے فرانس کا امن منصوبہ ایک بار پھر مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل نے جمعے کے روز ایک مرتبہ پھر اپنی حکومت کی جانب سے فرانس کے اس ابتدائی اقدام کی مخالفت کی ہے جو اس نے فلسطینیوں کے ساتھ امن کوششوں کو دوبارہ شروع کرنے کے سلسلے میں پیش کیا تھا۔ یہ اعلان فرانسسیسی وزیر خارجہ جون مارک کے اسرائیلے دورے سے دور روز قبل سامنے آیا ہے۔

پیرس حکومت امن عمل کی بحالی کے سلسلے میں 30 مئی کو فلسطینی اور اسرائیلی موجودگی کے بغیر، وزراء کی سطح پر ایک بین الاقوامی اجلاس کے انعقاد کی کوشش کررہی ہے۔ اس اجلاس کی کامیابی کی صورت میں رواں سال کے اختتام سے قبل ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بھی عمل میں آسکتا ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ اتوار کی صبح مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ اسی روز دوپہر میں وہ فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کریں گے۔ فرانسیسی وزیراعظم مانوئیل والز بھی آئندہ ہفتے کے اختتام پر اسرائیل اور فلسطینی اراضی کا دورہ کریں گے۔

اسرائیلی دفتر خارجہ کے ڈائریکٹر ڈور گولڈ نے جمعے کے روز اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ" کو بتایا کہ فرانسیسی تمہیدی اقدام کے ساتھ "بہت سی مشکلات نظر آرہی ہیں"۔

انہوں نے گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی قرارداد کے سلسلے میں فرانس کے ووٹ کا حوالہ دیا جس میں اس نے "بیت المقدس سے یہودیوں کے تاریخی ربط " کو مسترد کردیا تھا۔ گولڈ کا کہنا تھا کہ اس ووٹنگ کی وجہ سے "کسی کو بھی اسرائیل کی جانب سے فرانسیسی تمہیدی اقدام کو مسترد کرنے پر حیران نہیں ہونا چاہیے"۔

ڈور گولڈ کا کہنا تھا کہ اگر فرانسیسی کاوش میں فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل کو بطور یہودی ریاست تسلیم کرنا شامل ہوجاتا ہے تو یہ "ایک بہت اہم پیش رفت" ہوگی۔

انہوں نے باور کرایا کہ یہ تمہیدی اقدام "ہمیں مذاکراتی حل سے قریب نہیں بلکہ درحقیقت دور کردے گا"۔

گولڈ کے مطابق "اگر فلسطینی صدر محمود عباس اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے لیے بیت المقدس آجائیں تو معاملہ کافی آسان ہوجائے گا"۔

فلسطینی صدر کے دفتر نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ صدر محمود عباس نے ٹیلیفونک رابطے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ فرانسیسی اقدام کے تحت ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کے معاملے پر بات چیت کی۔ اس دوران عباس نے "فرانسیسی کوششوں کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اظہار کیا اور ساتھ ہی عالمی برادری پر اس کاوش کو سپورٹ کرنے کے لیے زور دیا"۔

ادھر واشنگٹن حکومت نے بدھ کے روز بتایا کہ اس نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا ہے کہ آیا امریکا پیرس کی جانب سے 30 مئی کو ترتیب دی جانے والی بین الاقوامی کانفرنس میں شریک ہوگا یا نہیں۔ اس سلسلے میں امریکی حکومت "تجویز کو فرانسیسیوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ زیر بحث لا رہی ہے"۔