بغداد : مظاہرین کا حکومت پر بم دھماکے کرانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کے دارالحکومت بغداد کے علاقے صدر سٹی میں سیکڑوں افراد نے تباہ کن بم دھماکے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور عراقی حکومت کو اس واقعے کا ذمے دار قرار دیا ہے۔

مظاہرین میں زیادہ تر شعلہ بیان شیعہ رہ نما مقتدیٰ الصدر کے حامی تھے۔صدر سٹی میں بدھ کو تباہ کن خودکش کار بم دھماکے میں 64 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

لیکن احتجاجی مظاہرین نے عراقی حکومت اور سیاسی قیادت پر اس بم دھماکے میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔مظاہرے میں شریک ایک اڑتیس سالہ خاتون اُم عباس کا کہنا تھا کہ ''جو کچھ ہوا ،یہ سیاست دانوں کی جانب سے ایک ردعمل تھا کیونکہ ہم لوگ پارلیمان میں داخل جو ہوئے تھے''۔

مقتدیٰ الصدر کے حامیوں نے کابینہ کی تبدیلی کے لیے کئی روز کے احتجاج کے بعد 30 اپریل کو بغداد کے قلعہ نما گرین زون میں واقع پارلیمان پر دھاوا بول دیا تھا۔انھوں نے وہاں توڑ پھوڑ کی تھی اور ارکان پارلیمان کو مارا پیٹا بھی تھا۔

اُم عباس کا بھائی صدر سٹی میں بم دھماکے میں مارا گیا ہے۔اس خاتون کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں نے ہمیں کھلے عام دھمکی دی تھی اور ہمارا یہ خیال تھا کہ اب گرفتاریوں اور پکڑ دھکڑ کی مہم شروع ہوگی لیکن اس کے بجائے انھوں نے یہ دھماکا کردیا ہے۔

ایک اور عراقی ابو علی آل زیدی کا کہنا تھا کہ ''یہ داعش نہیں تھے بلکہ بم دھماکے میں سیاست دانوں کا ہاتھ کارفرما ہے''۔وہ اور بعض دوسرے مظاہرین حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کررہے تھے اور وزیر داخلہ محمد آل غبان کے استعفے کا مطالبہ کررہے تھے۔

بعض دوسرے مظاہرین نے حکومت پر اس طرح کے الزامات تو عاید نہیں کیے ہیں۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو عوام کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہییں لیکن اس نے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔بغداد میں بدھ کو دو اور کاربم دھماکے ہوئے تھے اور ان میں تیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

عراقی حکومت نے دارالحکومت میں ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کررکھے ہیں لیکن چیک پوائنٹس پر گاڑیوں کی اچھے طریقے سے جانچ پڑتال نہیں کی جاتی ہے جبکہ جعلی بم ڈیٹیکٹروں سے بموں کا سراغ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس وجہ سے بھی جنگجو دھماکا خیز مواد بغداد اور دوسرے شہروں میں لانے اور وہاں بم دھماکے کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں