رفیق حریری کا قاتل مصطفی بدرالدین کون تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

حزب اللہ کے سمیر القنطار اور عماد مغنیہ کے بعد تنظیم کے ایک اور دہشت گرد مصطفی بدرالدین کی زندگی کا چراغ گل ہوگیا۔ سمیر القنطار گزشتہ برس دمشق کے نواحی علاقے جرمانا میں ہلاک ہوا تھا جب کہ حزب اللہ کی ملیشیاؤں کا لیڈر عماد مغنیہ 2008 میں شامی دارالحکومت کے نواحی علاقے کفر سوسہ میں مارا گیا۔

بدر الدین کی شخصیت زندگی بھر پراسرار رہی۔ 1982 میں کویت میں لی گئی ایک پرانی تصویر کے سوا کوئی بھی اس کی شکل و صورت سے واقف نہ ہوسکا۔

حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک تنظیم کے ایک مرکز کو بڑے دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں بدرالدین عرف "ذو الفقار" ہلاک ہوگیا جب کہ دیگر متعدد افراد زخمی ہوئے۔ دھماکے کے نوعیت طے کرنے کے لیے مزید تحقیق جاری ہے۔

خیال ہے کہ بدرالدین کی موت جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب واقع ہوئی۔ حزب اللہ کا یہ تیسرا لیڈر ہے جس کو دمشق میں رہتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔ واضح رہے کہ بدرالدین کا نام لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق الحریری کے قتل کی کارروائی سے بھی جوڑا گیا تھا۔
دہشت گرد مصطفی بدرالدین ہے کون؟

مصطفی بدرالدین کی زندگی دھماکوں اور ہلاکتوں کی کارروائیوں کی طویل تاریخ رکھتی ہے۔ اس نے ایرانی ایجنڈے کے تحت تقریبا تیس برس شہریوں کے خلاف لڑائی میں گزار دیے۔ بدرالدین "حزب الله" کے لیڈر عماد مغنیہ کی پہلی بیوی کا بھائی تھا۔ 1982 میں "حزب اللہ " کے قیام سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب نے اسے عماد مغنیہ کے ساتھ بھرتی کیا۔ بعد ازاں اس نے مغنیہ کے ساتھ مل کر ایک گروپ تشکیل دیا جو ایران کی پیروری کرتا رہا اور پھر "حزب الله" سے جڑ گیا۔

1983 میں عماد مغنیہ کے ساتھ بیروت میں امریکی سفارت خانے پر دھماکا کیا۔

1983 ہی میں اس نے مغنیہ کے ساتھ مل کر بیروت میں فرانسیسی فوجیوں اور میرینز کے مراکز پر خودکش حملہ آوروں کو بھیجنے میں حصہ لیا۔

اسی برس وہ "الياس فؤاد صعب" کے نام سے کویت منتقل ہوگیا اور وہاں متعدد دھماکے کیے۔

1984 میں کویت نے اسے گرفتار کرکے سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔

1990 میں کویت پر عراق کے قبضے کے بعد وہ ایران فرار ہوگیا اور پھر وہاں سے لبنان چلا گیا۔

جیل سے نکلنے کے بعد بدرالدین نے سعودی عرب سے بحرین تک عرب ممالک میں حملوں کی منصوبہ بندی کی۔

1996 میں اس کا سعودی عرب کے شہر الخبر میں دھماکے سے تعلق کا انکشاف ہوا۔

2003 میں وہ عراق کی "حزب الله" کے قیام میں شریک ہو۔

2005 میں بدرالدین نے "حزب الله" کے کئی رہ نماؤں کے ساتھ مل کر لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق الحریری کو ہلاک کردیا۔ اس بات کا انکشاف لبنان میں عالمی عدالت کی جانب سے کیا گیا۔

2008 میں دمشق میں عماد مغنیہ کی ہلاکت کے بعد بدرالدین "حزب الله" کا عسکری ذمہ دار بن گیا۔

اس نے بشار الاسد کے شانہ بشانہ شامی اپوزیشن کے خلاف حزب اللہ کی جنگ شروع کی۔

یاد رہے کہ "حزب الله" نے کویت کی جیل میں قید بدرالدین کی رہائی کے مقصد سے انیس سو اسّی کی دہائی میں ایک کویتی طیارہ اغوا کرکے اس مسافروں میں سے دو کو ہلاک کیا اور امیر کویت کو ہلاک کرنے کی کوشش کی اور بیروت میں متعدد مغربی صحافیوں کو اغوا بھی کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں