.

یمنی حکومت اور باغیوں کے درمیان براہ راست بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی وزیر خارجہ اور کویت میں امن بات چیت کے لیے حکومتی وفد کے سربراہ عبدالملک المخلافی کا کہنا ہے کہ باغیوں کے ساتھ اختلاف کی خلیج وسیع ہے۔

المخلافی نے یہ بات ہفتے کی صبح ہونے والے مشاورتی اجلاس کے ختم ہونے کے بعد کہی۔ اجلاس میں دونوں جانب سے چار چار ارکان اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد نے شرکت کی۔ المخلافی نے بتایا کہ "ہم ریاست کی واپسی کے لیے بات چیت کررہے ہیں تاکہ ریاست سب کے لیے سلامتی کا ذریعہ ہو جب کہ وہ صرف اقتدار کا سوچ رہے ہیں اور موافقت کی حکومت اور اقتدار کی تقسیم کا مطالبہ کررہے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں اس بات پر حیران ہوں کہ ریاست کا تختہ الٹ دینے والی، اور اداروں، قوانین اور فوج کو تباہ کرنے والی ملیشیائیں یہ کس طرح خیال کررہی ہیں کہ اقتدار کی تقسیم ریاست کی واپسی سے زیادہ اہم معاملہ ہے"۔

ہفتے کی صبح براہ راست مشاورتی اجلاس کے انعقاد کے ساتھ کویت میں دوبارہ شروع ہونے والی یمن امن بات چیت کی فضا بڑی حد تک کشیدہ تھی۔

جمعے کے روز ہونے والی بات چیت کے سیشن میں دونوں وفدوں کے تمام ارکان نے شرکت کی تھی۔ اس دوران یمنی وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے باور کرایا تھا کہ ان کا وفد کویت اس لیے آیا ہے تاکہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پر عمل درامد ، بغاوت کے خاتمے، آئینی حکومت کی واپسی اور باغی طاقتوں کے ہاتھوں سے ریاستی اداروں کی واپسی جیسے معاملات کو زیربحث لائے۔