.

یمن : تعز کے محاذ پر سرکاری فوج کی ملیشیاؤں کے ساتھ جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں باغی ملیشیاؤں کی جانب سے کئی مقامات پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے جب کہ دوسری جانب کویت میں جاری امن بات چیت میں حوثیوں اور معزول صدر صالح کا وفد اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔

ادھر تعز شہر کے مشرقی اور مغربی محاذ پر سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کی باغیوں کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ جھڑپوں سے قبل ملیشیاؤں نے شہر کے مشرق میں سرکاری فوج کے ٹھکانوں پر ٹینکوں اور توپوں کے ذریعے گولہ باری کی۔ اس کے علاوہ گولہ باری میں ثعبات، الجحملیہ، الدعوہ، الشماسی اور کلابہ کے علاقوں میں رہائشی حصوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

باغیوں نے سرکاری فوج کے بریگیڈ 35 کے صدر دفتر کے ساتھ ساتھ الضباب اور اسٹریٹ 30 پر عوامی مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں پر بھی حملے کیے۔ عوامی مزاحمت کاروں نے ان حملوں کو پسپا کرتے ہوئے ملیشیاؤں کو بھاری جانی نقصان پہنچایا۔

اسی دوران تعز صوبے کے ضلع الوازعیہ میں باغیوں نے سرکاری فوج کو ٹینکوں اور توپوں کی شدید گولہ باری کا نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں فریقین کے درمیان گھمسان کی جھڑپیں ہوئیں۔ سرکاری فوج نے حملے کو روکتے ہوئے باغیوں کے درجنوں جنگجو ہلاک اور زخمی کردیے۔

دوسری جانب عرب اتحادی افواج کے لڑاکا طیاروں نے عمران صوبے میں حوثی اور معزول صدر صالح کی ملیشیاؤں کے ٹھکانے پر متعدد فضائی حملے کیے۔ یہ حملے سرکاری بریگیڈ 310 کے سابق عسکری کیمپ پر باغیوں کے دھاوے اور اس پر قبضے کے بعد کیے گئے۔