.

ایران ایک اور''ہولوکاسٹ'' کی تیاری کررہا ہے: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران میں اسرائیل مخالف کارٹونوں کے ایک مقابلے کی مذمت کردی ہے اور ایران پر ہولو کاسٹ سے انکار کا الزام عاید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یہود کے ایک اور قتل عام کی تیاری کررہا ہے۔

ایران میں اسرائیل مخالف کارٹوں کے مقابلے اور نمائش کا ہفتے کے روز آغاز ہوا تھا۔اس میں پچاس ممالک سے تعلق رکھنے افراد نے اپنے ڈیڑھ سو فن پارے (کارٹون) پیش کیے ہیں،ان میں بنیامین نیتن یاہو اور ان کی حکومت کی مشرقِ وسطیٰ میں پالیسیوں کا مضحکہ اڑایا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے اتوار کے روز اپنی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے آغاز سے قبل کہا ہے کہ ''ایران نے اختتام ہفتہ پر ہولوکاسٹ سے انکار کے تھیم پر مبنی خصوصی کارٹون مقابلہ منعقد کیا ہے۔ہم یہاں اس معاملے کو اس لیے اٹھا رہے ہیں تاکہ یہ جان لیا جائے کہ ہمیں ایران کے ساتھ کیا مسئلہ درپیش ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''خطے میں یہ محض ایران کی جبر و جارحیت پر مبنی پالیسی ہی نہیں ہے بلکہ یہ اس کی اقدار ہیں جن پر وہ کھڑا ہے۔وہ ہولو کاسٹ اور اس کی اہمیت سے انکار کرتا ہے بلکہ ایک اور ہولوکاسٹ کی تیاری بھی کر رہا ہے''۔

نمائش میں رکھے گئے بہت سے خاکوں میں نیتن یاہو کا مضحکہ اڑایا گیا ہے اور ان میں سے ایک میں تو انھیں داعش کا رکن تک قرار دیا گیا ہے۔ایک اور میں مشرق وسطیٰ کا ایک نقشہ دکھایا گیا ہے۔اس میں ایک کفن پر لفظ ہولوکاسٹ لکھا ہوا ہے اور سرزمینِ فلسطین کی تباہ کاریوں کا نقشہ کھینچا گیا ہے جہاں آج اسرائیل کھڑا ہے۔

ایرانی حکومت نے کارٹونوں کے اس مقابلے سے لاتعلقی ظاہر کی ہے اور ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا ہے کہ ایک غیرسرکاری تنظیم نے حکام کی سرپرستی کے بغیر اس کا انعقاد کیا ہے۔

یاد رہے کہ نیتن یاہو نے گذشتہ سال ایران اور امریکا کی قیادت میں چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کی شدید مخالفت کی تھی اور اس کے نتیجے میں ایران پر عاید پابندیوں کے خاتمے کی مذمت کی تھی۔تب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ایک بیان میں یوں واویلا کیا تھا کہ ''ان پابندیوں کے خاتمے سے دسیوں یا سیکڑوں ارب ڈالرز ایرانی معیشت کا حصہ بن جائیں گے اور پوری دنیا میں اس وقت فعال ایرانی دہشت کی مشین مزید مضبوط ہو جائے گی''۔