.

شام میں حزب اللہ کی قیادت،"حريری کے قاتل" کا جانشیں کون؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے درالحکومت دمشق نزدیک حزب اللہ کے عسکری لیڈر مصطفی بدرالدین کی پراسرار حالات میں ہلاکت کے بعد یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اب تنطیم شام میں اپنی ملیشیاؤں کی قیادت کے لیے کسی عسکری ذمہ دار کو چُنے گی !

حزب اللہ کو اپنی کارروائیوں کی نگرانی کے لیے اعلی سطح کا کوئی دوسرا ذمہ دار مقرر کرنا ہو گا جو وسیع عسکری تجربے کا حامل ہو اور شام میں لڑائی کے میدان کی گہری جان کاری رکھتا ہو۔

اگرچہ حزب اللہ نے شام میں آئندہ مقرر کیے جانے والے نئے ذمہ دار کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے، تاہم اس سلسلے میں متعدد ناموں کے حوالے سے قیاس آرائیاں گردش میں ہیں۔

ان ناموں میں سرفہرست ابراہیم عقیل ہے جو عماد مغنیہ کا معاون اور ساتھی رہ چکا ہے اور اس نے ایک عرصے تک لبنان کے جنوب میں کی جانے والی کارروائیوں میں کمانڈر کے طور پر ذمہ داری سرانجام دی۔ عقیل جولائی 2006 کی جنگ میں شامی حکومت کے ساتھ انٹیلجنس تعاون کا ذمہ دار بھی تھا۔

ابراہیم عقیل شام میں اپنی عسکری سرگرمیوں کے سبب دہشت گردوں کی امریکی فہرست میں پہلا نام ہے۔ وہ حزب اللہ کے عسکری ونگ میں اعلی عہدوں پر کام کرتا رہا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ شام میں تنظیم کی کارروائیوں میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

انیس سو اسّی کی دہائی میں دو جرمن شہریوں کے اغوا اور پیرس میں دھماکے کی کارروائی میں ملوث ہونے کے شبہے کی بنیاد پر "انٹرپول" عقیل کے خلاف متعدد وارنٹ جاری کر چکی ہے۔

بدرالدین کی جانشینی کے لیے دوسرا امیدوار فؤاد شكر ہے۔ وہ ان شخصیات میں شامل ہے جن پر امریکا اور سعودی عرب نے پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔ فؤاد شکر حزب اللہ کی اعلی ترین عسکری کمیٹی میں کام کررہا ہے۔ خیال ہے کہ اس نے شام میں حزب اللہ کی عسکری مہم میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میں فؤاد نے شام میں فیصلہ کن اہمیت کے معرکوں میں حزب اللہ کے جنگجوؤں اور شامی حکومت کی ہمنوا فورسز کی مدد کی۔