السیسی: اسرائیل،فلسطینی امن مذاکرات میں ثالثی کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے لیے ثالثی کی پیش کش کی ہے اور کہا ہے کہ اگر اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ امن بات چیت کی بحالی کے لیے کوششوں کو تسلیم کر لیتا ہے تو اس کے ساتھ گرم جوشی پر مبنی تعلقات استوار کیے جاسکتے ہیں۔

وہ منگل کے روز مصر کے جنوبی شہر اسیوط میں ایک کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے اسرائیلی لیڈروں پر زوردیا ہے کہ وہ خطے میں سکیورٹی کے قیام کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اس کو ضائع نہ کریں۔

مصری صدر نے فلسطینی دھڑوں کے درمیان اختلافات کے خاتمے کے لیے بھی مصالحت کی پیش کش کی ہے اور کہا ہے کہ ''اگر ہم فلسطینی بھائیوں کے ایشو کو حل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس سے امن بھی حاصل کرلیں گے''۔انھوں نے اسرائیلی قیادت سے کہا ہے کہ وہ ان کی اس تقریر کو اسرائیل میں ایک یا دومرتبہ نشر کرے کیونکہ ان کے بہ قول یہ ایک حقیقی موقع ہے۔

عبدالفتاح السیسی نے اپنی تقریر میں مزید کہا: ''میں اپنے فلسطینی بھائیوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کو اپنے مختلف دھڑوں کو اکٹھے کرنا ہوگا تا کہ جلد سے جلد مصالحت کرائی جاسکے اور مصر یہ مصالحانہ کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔دیرینہ تصفیہ طلب تنازعے کا حل تلاش کرنے کے لیے یہ ایک حقیقی موقع ہے''۔

درایں اثناء فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے مئی کے آخر میں پیرس میں ہونے والی مشرقِ وسطیٰ عالمی کانفرنس کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن یہ کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے لیے یہ کانفرنس اسی موسم گرما میں ہوگی۔

اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس کانفرنس کے انعقاد کی مخالفت کی تھی۔انھوں نے گذشتہ اتوار کو فرانسیسی وزیر خارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل امن مذاکرات کی بحالی کے لیے بین الاقوامی کانفرنس بلانے کا مخالف ہے۔

واضح رہے کہ صہیونی ریاست کے پشتی بان امریکا نے بھی فرانس کے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن عمل دوبارہ شروع کرنے سے متعلق مجوزہ منصوبے کے بارے میں سرد مہری دکھائی ہے اور اس نے اس مجوزہ کانفرنس میں شرکت کرنے کی بھی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی تھی۔بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا فرانس کے ایک ایسے ایشو پر قائدانہ کردار کے حق میں نہیں ہے جس کی وہ روایتی طور پر خود قیادت کرتا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں