بغداد: بم دھماکوں میں 72 افراد ہلاک ،100 سے زیادہ زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے دارالحکومت بغداد میں منگل کے روز تین بم دھماکوں میں بہتر افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

بغداد کے علاقے صدر سٹی میں واقع آیک مارکیٹ میں خودکش بمبار نے اپنی بارود سے بھری کار کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔اس کے نتیجے میں انیس افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے ہیں۔عراقی دارالحکومت میں آج یہ تیسرا بم دھماکا ہے۔

قبل ازیں دو بم دھماکوں میں کم سے کم پچاس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔عراقی حکام کے مطابق بغداد کے شمالی علاقے الشعب میں ایک بازار میں بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑایا ہے۔اس کے نتیجے میں اڑتیس افراد مارے گئے اور ستر سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔بغداد کے جنوبی علاقے الرشید میں ایک اور کار بم دھماکے میں چھے افراد مارے گئے اور اکیس زخمی ہوئے ہیں۔

بغداد آپریشنز کمانڈ کے ترجمان نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا ہے کہ الشعب میں حملہ آور نے اپنی بارود سے بھری جیکٹ کو وہاں نصب بم کے ساتھ بیک وقت دھماکے سے اڑایا ہے۔اس کے بہ قول ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ خودکش حملہ ایک عورت نے کیا ہے۔

داعش نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بم حملہ ایک مرد نے کیا ہے۔اس نے پہلے دستی بم پھینکے تھے اور پھر خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔جنگجو گروپ نے اس بمبار کی شناخت ابو خطاب العراقی کے نام سے کی ہے۔

گذشتہ ہفتے بھی داعش نے بغداد میں تین کار بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔ان میں ایک سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔تشدد کے ان واقعات کے خلاف صدر سٹی میں شیعہ رہ نما مقتدیٰ الصدر کے سیکڑوں حامیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور انھوں نے حکومت کو ان بم دھماکوں کا ذمے دار قرار دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں