شامی مفتی کا رفیق حریری کے قاتل کو خراج عقیدت پیش!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حال ہی میں شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب ایک مشتبہ بم دھماکے میں مارے جانے والے لبنانی شیعہ ملیشیا کے کمانڈر مصطفیٰ بدرالدین کے قتل کے حوالے سے شام کے سرکاری مفتی ڈاکٹر احمد بدرالدین حسون کا ایک تازہ بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے مقتول کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اسے’شہید‘ قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شام میں اسدی فوج کے جرائم کا دفاع کرنے والے درباری مفتی نے رفیق حریری کے قاتل کو شہید قرار دے کریہ ثابت کیا ہے کہ اسد رجیم رفیق حریری کے قتل میں بالواسطہ طورپرملوث رہی ہے۔

شامی مفتی کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان میں حزب اللہ مقتول کمانڈر کی تعزیتی تقریبات منعقد کررہی ہے۔ اپنے ایک بیان میں مفتی بدرالدین حسن نے مقتول کمانڈر کو خراج عقیدت پیش کرتےہوئے کہا ہے کہ شہادت ہی ان کا مقدر تھی۔ انہوں نے متعدد مرتبہ شہادت کا درازہ کھٹکھٹایا مگرقدرت کی جانب سے اس میں تاخیر تھی۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نے تمہیں شہادت سے دور رکھنے کے لیے جیل میں ڈالا مگرتم شہادت جیسے بلند مرتبے پر فائز ہونے میں کامیاب رہے۔

ان کا اشارہ مصطفی بدرالدین کے کویت میں گرفتاری اور عمرقید کی سزا کی جانب تھا۔ تاہم کویت پر عراق کے حملے کے بعد بدرالدین جیل سے فرار ہوگیاتھا۔

خیال رہے کہ مصطفیٰ بدرالدین حزب اللہ کے ان اہم ترین کمانڈروں میں شمارہوتا تھا جو بیرون ملک عسکری سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ شام اور عراق میں حزب اللہ کی کارروائیوں میں مصطفیٰ بدرالدین کا نام عماد مغنیہ جیسے اہم کمانڈروں کی صف میں ہوتا رہا ہے۔ حال ہی میں دمشق کے قریب ایک پراسرار بم دھماکے میں اسے ہلاک کیا گیا۔ حزب اللہ نے ایک سنی عسکری تنظیم پر مصطفیٰ بدرالدین کے قتل کا الزام عاید کیا ہے۔ تاہم ابھی تک کسی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں