موصل میں داعش کے ہاتھوں خاتون سمیت 21 افراد سنگسار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کی نینویٰ گورنری سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ شدت پسند گروپ دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کے جنگجوؤں نے غیرشرعی تعلقات کے قیام کے الزام میں ایک خاتون اور 20 دیگر شہریوں کو سنگسار کرتے ہوئے انہیں موت سے ہمکنار کردیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ واقعہ حال ہی میں بغداد کے شمال میں 405 کلومیٹر دور مشرقی موصل میں پیش آیا۔

ایک مقامی نیوز ویب پورٹل’’مدی پریس‘‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ داعشی جنگجوؤں نے ایک خاتون اور 20 دیگر نوجوانوں کو حراست میں لیا اور ان پر اپنی نام نہاد شرعی عدالت میں غیر شرعی تعلقات کے قیام کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا جہاں داعشی قاضی نے انہیں سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ بعد ازاں داعش کے حسبہ عناصر نے مشرقی موصل کی تحریر کالونی میں واقع جامع مسجد الزھراء کے باہرانہیں رجم کرتے ہوئے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

ایک مقامی شہری نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ داعش کے محکمہ الحسبہ کے شدت پسندوں نے بڑی تعداد میں شہریوں کو زبردستی جامع مسجد الزاھراء کے باہر جمع کیا تاکہ انہیں سنگساری کی سزا کے نفاذ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے پرمجبور کیا جاسکے۔ بعد ازاں داعشی جنگجوؤں نے ایک خاتون اور بیس دوسرے افراد کو ایک ایک کرکے سنگ سار کردیا۔ مقتولین کی میتیں موصل کے العدلی اسپتال منتقل کردی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ موصل شہر پر داعش نے جون 2014ء کو قبضہ کیا تھا جس کے بعد اس اہم شہر پر داعش کی حکومت قائم ہے جو اپنی مرضی سے لوگوں پر سزائیں نافذ کررہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں