واپسی میں تاخیرکرنے والے معتمرین کو قید وجرمانہ کی سزاء

تاخیر کرنے والوں کو پچاس ہزار ریال جرمانہ اور چھ ماہ قید ہوسکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ڈاریکٹوریٹ جنرل برائے ایمی گریشن نے معتمرین کرام کے لیے ایک نیا ضابطہ اخلاق جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمرہ ویزے پرمملکت میں آنے کے بعد وقت مقررہ پر واپس نہ ہونے والے غیرملکیوں کو 50 ہزار سعودی ریال جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا دی جائے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ڈاریکٹوریٹ جنرل برائے ایمی گریشن کی جانب سے جاری کردہ ایک پالیسی بیان میں کہا گیاہے کہ عمرہ ویزہ پرآنے والے غیرملکی مسلمانوں کو تاریخ مقررہ کے اندر اندر اپنے ملکوں کو واپس جانا ہوگا۔ بہ صورت دیگر انہیں چھ ماہ قید اور پچاس ہزار ریال جرمانہ کیا جاسکتا ہے۔ بیان میں مقامی سعودی شہریوں اور مملکت میں رہنے والے غیرملکیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ عمرہ ویزے پرآنے والے شہریوں کو چھپانے میں مدد دینے کی کوشش نہ کریں۔ اگرکسی شہری کو غیرقانونی طورپر معاونت کا مرتکب پایا گیا تو اسے 1 لاکھ ریال جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا دی جائے گی۔ اگر وہ غیرملکی ہے تو اس کا اقامہ منسوخ کرکے اسے ملک سے نکال دیا جائے گا۔

بیان میں حج وعمرہ ٹور آپریٹرز فرموں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ عازمین عمرہ کے حوالے سے وضع کردہ قواعد کی سختی سے پابندی کریں۔ اگرعمرہ ویزے پرآیا کوئی شخص غائب ہوجائے تو فوری طورپر اس کے متعلق حکام کو آگاہ کیا جائے۔ حکام کو اطلاع دینے میں تاخیر کے ذمہ دار ٹورآپریٹر کو بھی ایک لاکھ ریال جرمانہ کی سزا دی جائے گی اور ایسے اداروں کے لیے آئندہ پانچ سال کے لیے عمرہ سروسز کی فراہمی پرپابندی بھی عاید کی جاسکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں