.

"برات" کا مناسک حج سے کوئی تعلق نہیں: شیعہ مرجع کے فرزند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں انتظامی ترقی کے وزیر اور مشہور شیعہ مرجع مہدی شمس الدین کے فرزند ابراہيم شمس الدين نے باور کرایا ہے کہ "اعلان برات" کی رسم کوئی مذہبی فریضہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "حج ایک فرض عبادت ہے جس کے مناسک معروف ہیں، ان مناسک میں برات کا کوئی ذکر نہیں جیسا کہ آج تصور کر لیا گیا ہے"۔

شمس الدین کے مطابق "اعلان برات محض ایک سیاسی اظہار ہے اور آج کے زمانے میں مناسک حج میں موجود افراد سے برات کا اعلان کرنا ممکن نہیں جب کہ وہ تمام مسلمان ہوتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "درحقیقت برات کا اعلان امریکا سے تھا اور کچھ عرصہ قبل ایران نے اس کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ کر لیا۔ ایران مشرکین سے برات کا اعلان کس طرح کر رہا ہے جب کہ اسی دوران ان کے ساتھ معاہدے بھی دستخط کیے جا رہے ہیں"۔

لبنانی مذہبی مرجع کے فرزند نے حج اور عمرے کے مناسک میں سیاسی معاملات داخل نہ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ " حج میں خالص طور پر اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی طرف رخ کیا جاتا ہے اور اس کے مناسک شرک سے برات کا عملی نفاذ ہوتے ہیں لہذا اس کے اعلان کی رسم کی قطعا کوئی ضرورت نہیں۔ حج کسی بھی نعرے کے تحت اختلاف پیدا کرنے کا موقع نہیں اور جو چیز بھی فتنے اور مخاصمت کا سبب بنے اس کو ترک کرنا چاہیے"۔

ابراہيم شمس الدين کے مطابق "سعودی عرب ایک اسلامی ریاست ہے اور وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت تمام مقامات مقدسہ کا ذمہ دار ہے۔ لہذا حجاج کی خدمت میں سعودی عرب کی معاونت کی ضرورت ہے نا کہ اس کے سر کسی اور چیز کی تشہیر کی جائے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "سعودی عرب حجاج کی خدمت میں بڑے پیمانے پر کوششیں کرتا ہے اور وہ اس موقع پر مکمل رضامندی کے ساتھ تعاون کے اصول و ضوابط وضع کرنے کے سلسلے میں اسلامی حکومتوں سے بھرپور تعاون کی توقع رکھتا ہے"۔