.

صلیب احمر کا شامی حکومتی جیلوں کا دورہ.. 17 ہزار افراد سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خوراک اور دواؤں کی قلت نے محصور علاقوں میں شامیوں کی اذیت میں اضافہ کر دیا ہے۔ اگرچہ بااثر ممالک کی جانب سے انسانی امداد کا میکانزم جاری رکھا گیا تاہم ان میں اکثریت کامیاب نہ ہوسکی۔ اس ناکامی کا ایک سبب تو شامی حکومت کی جانب سے رکاوٹ اور دوسرا سبب داعش تنظیم کی جانب سے دیر الزور کا محاصرہ ہے۔

ادھر مشرق وسطی میں صلیب احمر کے آپریشن چیف روبیر مادینی کا کہنا ہے کہ تنظیم محصور شامی شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو انسانی امداد پہنچانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ انہوں نے صورت حال کو المناک قرار دیتے ہوئے باور کرایا کہ تنظیم زمینی طور پر اپنی کارروائیاں بڑھا دے گی۔

صلیب احمر کے مطابق رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران اس نے 26 لاکھ افراد کو انسانی امداد فراہم کی جو گزشتہ برس کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 60% زیادہ ہے۔

ماردینی نے انکشاف کیا کہ صلیب احمر کے ذمہ داران نے شامی حکومت کے زیرانتظام مرکزی جیلوں کے نو دورے کیے جن میں 15 ہزار سے زیادہ گرفتار شدگان ہیں۔ ان کے علاوہ مزید دو جیلوں کا بھی دورہ کیا گیا جہاں دو ہزار کے قریب افراد زیر حراست ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اقوام متحدہ کے زیرانتظام عالمی خوارک پروگرام پر زور دیا ہے کہ شامی حکومت اور اس کی ہمنوا ملیشیاؤں کے زیرمحاصرہ علاقوں میں اگر زمینی راستے سے امدادات نہیں پہنچ سکیں تو پروگرام کے ذمہ داران ایسی صورت میں فضائی پل کا طریقہ کار اپنا کر انسانی امداد پہنچانے کا انتظام کریں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ کثیر لاگت اور درستی کے فقدان کے سبب شام میں فضائی راستے سے انسانی امداد گرانا آخری حل ہوگا۔ بین الاقوامی تنظیم نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ اس نوعیت کی کارروائیوں کے سلسلے میں زمین پر متحارب گروپوں کے ساتھ کوآرڈی نیشن کی جائے۔