.

فوجی اہل کاروں کی کمی ، قہوہ خانوں سے شامی نوجوانوں کی گرفتاریاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار الاسد کی فورسز کی جانب سے نوجوانوں کو گرفتار کر کے انہیں جبری طور پر لڑنے کے لیے فوج میں بھرتی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ حال ہی میں اللاذقیہ صوبے میں اس نوعیت کی سب سے بڑی مہم چلائی گئی۔

شامی حکومت کے سربراہ بشار الاسد کو اپنی فورسز میں افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ ملک کے مختلف محاذوں پر اپوزیشن فورسز کے خلاف لڑائی میں سرکاری فوج کے اہل کاروں کا بڑی تعداد میں ہلاک ہوجانا ہے۔ اسی کمی کو پورا کرنے کے لیے حکومتی سیکورٹی اداروں نے اللاذقیہ صوبے میں نوجوانوں کا پیچھا کر کے انہیں عسکری خدمت پر مجبور کر دیا۔ یہاں تک کہ "قہوہ خانوں" میں بھی گھات لگا کر ان نوجوانوں کو اجتماعی طور پر حراست میں لیا گیا اور انہیں طاقت کے زور پر بشار الاسد کے لیے لڑنے پر لگا دیا گیا۔

شامی اپوزیشن کی ویب سائٹ "زمان الوصل" نے بدھ کے روز بتایا کہ سیکورٹی اداروں کی گھات لگا کر کارروائیاں قہوہ خانوں تک محدود نہیں بلکہ "روٹی کے تندوروں" کو بھی نہیں چھوڑا گیا تاکہ شامی فوج کی طرف سے لڑنے سے انکار کرنے والے نوجوانوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو پکڑا جا سکے۔ ویب سائٹ کے مطابق سیکورٹی اداروں نے ان میں درجنوں کو گرفتار کرلیا جب کہ دیگر نوجوان سڑکوں پر فرار ہو کر اپنے گھروں میں جا چھپے تاکہ گرفتاری اور فوج کی طرف سے جبری لڑائی سے بچ سکیں۔

اس طرح کی بھی معلومات موصول ہو رہی ہیں کہ صوبے میں سیکورٹی اداروں نے بسوں اور ٹیکسیوں کو روک کر ان میں سوار افراد کو اتارا اور پھر شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد انہیں بزور طاقت بشار الاسد کی فوج میں عسکری خدمت کے لیے لے گئے۔ اس کے علاوہ نیشنل ڈیفنس، ملٹری انٹیلیجنس اور ملٹری پولیس پر مشتمل فورسز کے گشتی دستوں نے بازار میں گھومنے والے "پیدل" افراد کو آسان شکار کے طور پر پکڑنا شروع کردیا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ روسی صدر پوتین کا زمینی طور پر جلد نتائج کے حصول کے لیے بشار الاسد پر دباؤ ڈالنے کی وجہ سے سرکاری فوج کو ستمبر میں روس کی عسکری مداخلت کے بعد سے ہزاروں اہل کاروں کا جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

یاد رہے کہ شامی حکومت اس سے پہلے بھی کئی مواقع پر دمشق، حلب، اللاذقیہ اور حمص کی سڑکوں پر سے نوجوانوں کو گرفتار کرچکی ہے۔ تاہم کچھ عرصہ قبل اللاذقیہ صوبے میں اس کا سیکورٹی گشت اپنی نوعیت کا سب سے بڑا آپریشن شمار کیا جا رہا ہے۔