.

"ولایت فقیہہ" کے لیے ایرانی "برات کی پکار" کی حقیقت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں اداراہ حج و زیارت کے سربراہ سعید اوحدی کی جانب سے "مشرکین سے برات" کی رسم کو 1437 ہجری کے حج پروٹوکول میں شامل کیے جانے کی شرط عائد کیے جانے کے بعد اس "خمینی کی بدعت" نے پھر سے سر اٹھا لیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ پیش رفت اوحدی کی جانب سے حج پروٹوکول کے مسودے کو ایران میں مذہبی سپریم اتھارٹی کے سامنے پیش کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

"العربيہ ڈاٹ نیٹ" کی تحقیق کے مطابق ایرانی انقلاب کے سرخیل خمینی کے بیانات اور تحریروں پر تفصیلی نظر ڈالی جائے تو معلوم ہو گا کہ "اعلان برات" کہلائی جانے والی رسم کا شیعہ مذہبی مراجع اور فتاوی میں کوئی حوالہ نہیں ملتا۔

توجہ طلب امر یہ ہے کہ عبادات سے متعلق مذہبی فرائض کے حوالے سے خمینی کی جو تالیفات موجود ہیں وہ بھی اس اصطلاح کے ذکر سے خالی ہیں جن کو خمینی نے "برات کی پکار" کا نام دیا تھا۔ خمینی نے فقط اپنے سیاسی بیانات اور تقاریر میں اس کا ذکر کرنے پر اکتفا کیا۔

خمینی کی مشہور عربی تالیف "تحریر الوسیلہ" میں "کتاب الحج" کے نام سے ایک باب موجود ہے۔ تاہم اس پورے باب میں ذکر کیے گئے حج اورعمرے کے ارکان میں کوئی ایک سطر ایسی نہیں جس سے "برات کی پکار" کا اشارہ بھی ملتا ہو۔

اعلان برات کا مطلب

مشرکین سے برات کا سیاق ہمیں قرآن کریم کی سورت التوبہ کی پہلی آیت میں ملتا ہے۔ اس آیت کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ غزوہ تبوک کے بعد اس سال حج کے موقع پر مشرکین برہنہ حالت میں حسب معمول بیت اللہ کا طواف کرنے پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اختلاط کو ناپسند فرمایا۔ نبی کریم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس سال حج کا امیر بنا کر بھیجا تاکہ مسلمانوں کے ساتھ مناسک ادا کریں اور مشرکین کو معلوم ہو جائے کہ وہ اس سال کے بعد حج نہیں کریں گے۔ ساتھ ہی لوگوں میں ان مشرکین سے برات کی آواز بھی لگا دی گئی۔

تاہم خمینی کے بیانات اور تقاریر میں مشرکین سے برات کا معنی اپنے تاریخی سیاق سے خارج ہے کیوں کہ حج کے موقع پر حقیقی صورت سے قطعا مختلف شکل میں اس کی دعوت دی جاتی ہے اور "برات" کے اعلان کو ایک سیاسی مظہر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

حج میں سیاسی دوری

خمینی کی نظر میں حج کا سیزن "ولایت فقیہہ" کی شرعی حیثیت کے قیام کے لیے ہمیشہ سے اہم ترین سیاسی موقع رہا ہے۔ اسی وجہ سے ایرانی اور دیگر ملکوں کے حجاج کو بار بار اس موقع سے فائدہ اٹھانے اور عمل میں لانے کی دعوت دی جاتی رہی ہے۔ ایک بیان میں خمینی کا کہنا تھا کہ "ان عظیم مناسک میں سیاسی دوری اختیار کرنا سب سے زیادہ متروک امر ہے۔ غدار مجرم اس کو متروک رکھنے کے لیے کام کرتے رہیں گے"۔

خمینی کا مقصد یہ تھا کہ مختلف اسلامی ممالک سے آئے ہوئے لاکھوں حجاج کی موجودگی سے فائدہ اٹھا کر اس امر کی تشہیر کی جائے جس کو ولایت فقیہہ کے عنوان سے عالم اسلام میں سیاسی بیداری کا نام دیا دیا گیا تھا۔ بظاہر اس سے شرک، سرکشی اور ظلم کو ختم کرنے کا دعوی کیا گیا تاہم درحقیقت اندرون خانہ یہ تمام حجاج کو خمینی کے ایرانی انقلاب کے پرچم تلے جمع کرنے کی کوشش تھی تاکہ عالم اسلام میں فقیہہ کی ولایت کا تصور عام کیا جا سکے۔

خمینی کے مطابق حج ایک رپورٹنگ مشن ہے اسی لیے ایک مرتبہ حج کے موقع پر اپنا نظریہ اس طرح پیش کیا کہ "تم لوگ دیکھو کہ اسلامی ممالک میں مسلمان بھائیوں پر سامراج اور ان کے ایجنٹوں کی طرف سے کیسا ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔ ہر ملک کے باسیوں کو چاہیے کہ وہ اس مقدس اجتماع کے دوران دنیا بھر کے مسلمانوں کے سامنے ایک رپورٹ پیش کریں جس میں ان کے ملک کے عوام کو درپیش مشکلات اور مشقتوں کا تفصیلی ذکر ہو"۔

ولایت فقیہہ کی دعوت کا مقصد حج کو سیاست میں ملوث کرنا ہے : الحسینی

شیعہ عربوں کی مذہبی کونسل "المجلس الاسلامی العربی" کے سکریٹری جنرل محمد علی الحسینی نے "العربيہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ ولایت فقیہہ اور اس سے متعلق گمراہ کن فتاوی سے خبردار رہنے اور اس کے ریلے میں نہ بہنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ ان امور کے ذریعے حج کو سیاست میں ملوث کرنے اور حقیقی مقاصد سے دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی اس دینی رکن کو سیاسی نعروں اور دنیاوی مسائل کا پلیٹ فارم بنایا جا رہا ہے جن حج کے فریضے سے کوئی تعلق نہیں"۔

انہوں نے واضح کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں "برات کا اعلان" اپنے تاریخی سیاق میں تھا۔ اللہ کے نبی نے اس کی وصیت نہیں کی اور بعد ازاں خلفاء راشدین اور اہل بیت نے بھی اس کو ہر سال دہرائی جانے والی رسم بنانے پر عمل نہیں کیا۔

اسلام کی اجنبیت اور سید قطب کے تناظر

خمینی نے اپنے سیاسی مقاصد وضع کرنے کے لیے بہت سے تناظر سید قطب کے لٹریچر سے اخذ کیے جن میں نمایاں ترین "اسلام کی اجنبیت" کے تصور کی ترویج ہے۔ ایرانی حج مشن کے ذمہ داران سے خطاب میں ایک بار خمینی نے کہا کہ "بنیادی طور پر مشرکین سے برات حج کے سیاسی فرائض میں سے ہے جس کے بغیر ہمارا حج، کسی طور حج نہیں ہوگا"۔

برات کی پکار ایک سیاسی نعرہ ہے

خمینی نے "اعلان برات" کی رسم کو خمینی انقلاب کے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا تاکہ حجاج کو ان کی حکومتوں کے خلاف انقلاب پر اکسایا جا سکے۔

اسلام کی اجنبیت کے تصور کے ذریعے اسلام کی صورت مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔ "امامت" یا "ولایت فقیہہ" کی اصطلاح کے تحت "اسلامی معاشرے کی حاکمیت" کی زمام اپنے ہاتھ میں لینے کی سازش کار فرما تھی۔

خمینی اپنے انقلاب کی عالمگیریت کے سلسلے میں مناسک حج کو سیاسی جہاد میں تبدیل کر کے اسلامی معاشروں میں ایک ایسی حکومت الہیہ کا قیام چاہتا تھا جس کا حکمراں وہ خود ہو۔

خمینی کے ویژن کے مطابق حجاج کرام پر لازم تھا کہ وہ حج کے موقع پر بالخصوص وقوف عرفہ میں برات کا پرزور اور اعلانیہ اظہار کریں کیوں کہ یہ "مجاہدین" کی تشکیل کا ذریعہ ہے۔

خمینی کا کہنا تھا کہ "حج میں برات کا اعلان مجاہدین کی تشکیل کی تربیت ہے تاکہ کفر، شرک اور بت پرستی کے خلاف جنگ جاری رکھی جاسکے۔ اگر لوگوں نے بیت اللہ میں برات کا اظہار نہیں کیا توپھر کہاں کریں گے؟ اگر حرم، کعبہ شریف، مسجد اور محراب اللہ کے سپاہیوں کے لیے خندق اورپناہ گاہ نہیں تو پھر کون سا دوسرا مقام ہو گا؟

"مجاهدين" کی تشکیل اور تربیت کی عملی صورت کا انکشاف سعودی سیکورٹی فورسز نے 1406 ہجری میں مکہ مکرمہ میں ایرانی حاجیوں کی ہنگامہ آرائی کے دوران کیا جب پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والے ہزاروں ایرانیوں کی موجودگی کا پتہ چلا جو کہ اپنے لباس اور سرخ پٹیوں کی وجہ سے بقیہ تمام حجاج کرام سے علاحدہ نظر آ رہے تھے۔

"اعلان برات" کی رسم اسلامی تاریخ میں کبھی نہیں جانی گئی

محمد علی الحسینی کے مطابق خمینی اور اس کے نظام کی آمد سے قبل "اعلان برات" کی گمراہ بدعت کے جواز سے متعلق مذہبی مراجع کوئی فتوی نہیں ملتا۔

ان کے مطابق "حج 14 صدیوں سے زائد عرصے سے خالصتا عبادت کا موقع ہے۔ مناسک حج واضح اور اس چیز سے پاک رہے ہیں جس کی خمینی نے دعوت دی"۔

1406 ہجری میں حرم مکی میں پیش آنے والے پرآفت واقعات، خمینی کے اس بیان کے بعد ہی سامنے آئے جس میں اس نے ایرانی حاجیوں پر زور دیا تھا کہ وہ "اعلان برات" کے سلسلے میں مظاہرے کریں۔

خمینی کا بیان ایرانی حاجیوں کے لیے کافی تھا جس کے بعد انہوں نے لاٹھیوں اور چاقوؤں سے لیس ہو کر ہنگامہ آرائی کی اور سیکورٹی فورسز اور حجاج کی گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور توڑ پھوڑ کی۔

زائر کا کتابچہ اور دعاء کمیل

"زائر" کا یومیہ کتابچہ ایرانی حج مشن کی جانب سے عربی اور فارسی زبانوں میں جاری کیا جاتا ہے۔ اس میں حج سیزن کے دوران سیاسی ہدایات اور اشتعال انگیز مطالبات شامل ہوتے ہیں۔ یہ کتابچہ شریعت مخالف امور، بدعتوں اور حج کے مقاصد سے انحراف سے خالی نہیں ہوتا۔

جہاں تک دعاء کمیل کا تعلق ہے تو یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی جاتی ہے۔ شیعہ مذہبی مرجعوں کی جانب سے جمعہ کے روز اس کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں خمینی نے مدینہ منورہ میں شیعہ عرب اور ایرانیوں کے بڑے مجمعے کے بیچ اس دعاء کو پڑھنے کی ہدایت کی۔

اسی تناظر میں 1402 ہجری میں ایرانی حجاج کے ایک گروپ نے مسجد نبوی کے سامنے مظاہرہ کیا۔ اس دوران مظاہرین نے خمینی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ مظاہرے کے سبب سیکورٹی فورسز کو مداخلت کر کے ریلی کو روکنا پڑا۔

ایرانی حجاج کی جانب سے تشدد کے واقعات

ایرانی حجاج کی جانب سے کئی سال تک حج کے موقع پر اپنے پروپیگنڈے اور سیاسی مقاصد کی تشہیر کی کوشش کی جاتی رہی۔ اس دوران مقامات مقدسہ میں ہنگامہ آرائی اور بلوے کے ساتھ ساتھ سیکورٹی فورسز نے انکشاف کیا کہ ایرانی حجاج کو دستی اسلحہ اور چھرے بھی فراہم کیے گئے۔ علاوہ ازیں حجاج کے قبضے سے ایسے پمفلٹس بھی ضبط کیے گئے جن میں خمینی کی جانب سے سعودی حکومت اور حکام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

1403ھ : اسلحہ لے کر مسجد حرام میں داخلے کی کوشش اور سیاسی نعرے بازی

7 شوال 1403هـ (جولائی 1983) کو اس وقت کے سعودی وزیر داخلہ شہزادہ نایف بن عبدالعزیز نے ایران کے ان دعوؤں کو غلظ ثابت کر دیا جن میں اس کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ایرانی حجاج کے آرام اور راحت کو یقینی بنانے کے لیے ان متعلقہ اقدامات کو نہیں کر رہا جن کا مطالبہ ایران کی جانب سے کیا گیا تھا۔ شہزادہ نایف کے بیان میں واضح کیا گیا تھا کہ بعض ایرانی حجاج کی جانب سے فریضہ حج کے بنیادی مقصد سے انحراف سامنے آیا ہے اور اس نوعیت کے سیاسی پروپیگنڈہ کو پھیلایا جا رہا ہے جس کا فریضہ حج کے حوالے سے اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔

ایرانی حجاج کی جانب سے مظاہروں کے دوران توحید کے منافی نعرے بھی لگائے گئے مثلا "الله اكبر – خمينی امام – الله اكبر"۔ اس کے علاوہ بعض چھوٹے آتشی اسلحے کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی گئی۔ سیکورٹی حکام نے دسیوں بار اس نوعیت کا اسلحہ ضبط کیا۔

1403هـ اور 1406هـ : پمفلٹس، تصاویر اور بینرز برآمد

24 ذو القعدہ 1403هـ (ستمبر 1983) کو 21 ایرانیوں کو پکڑا گیا جن کے پاس سے پروپیگنڈے کے پمفلٹس، تصاویر اور دیگر اسشتعال انگیز لٹریچر برآمد ہوا اور معلوم ہوا کہ یہ لوگ حج کی غرض سے سعودی عرب نہیں آئے تھے۔

3 ذوالحجہ 1406 هـ (اگست 1986) کو ایرانی حاجیوں کے ایک گروپ کو حراست میں لیا گیا جن کے پاس پروپیگنڈے سے متعلق پمفلٹس، کتابیں اور تصاویر تھیں۔ اس گروپ نے مظاہرے بھی کیے تھے۔

1987ء میں مکہ مکرمہ کے واقعات

1987ء (31 جولائی) کو بعض ایرانی حاجیوں نے حج کے دوران بڑے مظاہرے کیے جن کو 1987 کے مکہ واقعات کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان لوگوں نے راستے بند کردیے، گاڑیوں کو نذرآتش کیا اور دیگر حجاج اور شہریوں کو اپنی منزلوں تک جانے سے روک دیا۔ بعد ازاں مظاہرین مسجد حرام کی جانب چل پڑے اور انہوں نے ایران میں اسلامی انقلاب کے بینر اور خمینی کی تصاویر کو اٹھا رکھا تھا۔

اس موقع پر سعودی سیکورٹی فورسز نے حالات کو قابو کرنے کے لیے مداخلت کی، تاہم مظاہرین کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے فریقین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ اس کے نتیجے میں 402 افراد (275 ایرانی حاجی، 85 سعودی، 45 دیگر ملکوں کے حاجی) ہلاک ہوئے۔ ہلاکتوں کے علاوہ 649 افراد (303 ایرانی حاجی، 145 سعودی اور 201 دیگر ملکوں کے حاجی) زخمی بھی ہوئے۔