شامی فوج کا دمشق کے نواح میں واقع قصبے پر دوبارہ قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی فوج نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کی مدد سے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع ایک قصبے پر چار سال کے بعد دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق نے جمعرات کو بتایا ہے کہ شامی فوج اور حزب اللہ نے دو باغی گروپوں جیش الاسلام اور فیلق الرحمان کے درمیان باہمی لڑائی کا فائدہ اٹھایا ہے اور دیرالاسفیر پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

رصد گاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے شام میں موجود اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے بتایا ہے کہ باغی گروپوں نے دیرالاسفیر سے اپنے جنگجوؤں کو محاذ جنگ کے لیے طلب کیا تھا۔اس دوران شامی فوج نے بھرپور حملہ کیا ہے۔انھیں شامی فضائیہ کی مدد بھی حاصل تھی اور شامی طیاروں نے باغیوں کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی ہے۔اس کے بعد شامی فوج اس قصبے داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

شامی باغیوں نے مشرقی الغوطہ میں واقع دیرالاسفیر پر سنہ 2012ء سے قبضہ کررکھا تھا۔اس قصبے میں اپریل میں جیش الاسلام کی فیلق الرحمان اور ایک اور باغی گروپ جیش الفسطاط کے ساتھ لڑائی چھڑ گئی تھی۔ان دونوں باغی گروپوں کا شام میں القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ سے اتحاد ہے۔

رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ شامی فوج فروری سے دیر الاسفیر پر دوبارہ قبضے کے لیے جنگ آزما تھی حالانکہ مشرقی الغوطہ میں بھی شامی فوج اور باغی گروپوں کے درمیان فروری سے جنگ بندی جاری ہے۔البتہ اس علاقے میں واقع بعض شہروں اور قصبوں میں اس عارضی جنگ بندی کی آئے دن خلاف ورزیاں ہوتی رہتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں