لبنانی فوج سے لڑائی پر 106 افراد کو سزائے موت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان کی ایک فوجی عدالت نے دو سال قبل ملک کے مشرقی علاقے میں فوج کے ساتھ جھڑپوں کے الزام میں 106 افراد کو قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

فوجی عدالت کے جج نجات ابو شاکرہ نے شام کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے عرسال پر حملے کے الزام میں 73 شامیوں ،32 لبنانیوں اور ایک فلسطینی کو مجرم ٹھہرایا ہے۔ان پر الزام تھا کہ ان کا دہشت گرد تنظیموں سے تعلق تھا اور انھوں نے اس قصبے پر حملے کے بعد لبنانی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا تھا اور انھیں قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔

عدالت نے جن مجرموں کو سزائے موت سنائی ہے،ان میں 77 گرفتار ہیں اور 29 مفرور ہیں۔ان میں شام میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرۃ محاذ کا سرحدی علاقے وادی قلمون میں لیڈر ابو مالک التالی بھی شامل ہے۔

یادرہے کہ اگست 2014ء میں سخت گیر گروپ داعش اور النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں نے مل کر عرسال پر دھاوا بول دیا تھا۔ان کی وہاں شامی فوج کے ساتھ کئی روز تک جھڑپیں ہوئی تھیں اور یہ جنگجو مقامی عمائدین کی مداخلت کے بعد اس قصبے کو خالی کرنے پر آمادہ ہوئے تھے لیکن وہاں سے انخلاء کے وقت تیس فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو بھی اغوا کرکے ساتھ لے گئے تھے۔

ان جنگجو گروپوں نے طویل مذاکرات کے بعد اسی سال دسمبر کے اوائل میں لبنان کی جیلوں میں قید بعض اسلامی جنگجوؤں کے بدلے میں سولہ فوجیوں کو رہا کردیا تھا۔ قیدیوں کے اسی تبادلے میں لبنان نے داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کی سابقہ اہلیہ سجی الدلیمی کو جیل سے رہا کیا تھا۔

واضح رہے کہ شام میں گذشتہ پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کے لبنان پر بڑے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور شامی صدر بشارالاسد کی حمایت اور مخالفت کی بنا پر لبنان کے دوسرے بڑے شہر طرابلس اور بعض دوسرے علاقوں میں متعدد مرتبہ خونریز جھڑپیں ہو چکی ہیں۔لبنان کی شیعہ ملیشیا بشارالاسد کی حامی ہے اور اس کے جنگجو شامی فوجی کے شانہ بشانہ باغی گروپوں کے خلاف لڑرہے ہیں جبکہ ملک کی سنی آبادی شامی باغیوں کی حامی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں