کسی ایک جماعت سے نتھی ہو کر مذہب کو نقصان پہنچتا ہے: الغنوشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

تیونس میں "النہضہ تحریک" کے سربراہ راشد الغنوشي نے انکشاف کیا ہے کہ 20 سے 23 مئی تک منعقد ہونے والی 10 ویں کانفرنس کے کے بعد تحریک کا نام تبدیل کر دیا جائے گا۔

تیونس کے ایک جریدے "لیڈرز" کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے الغنوشی کا کہنا تھا کہ تحریک کا نام "النہضہ الوطنيہ" یا "النہضہ والتنميہ" ہوسکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ "النہضہ پارٹی سیاسی اور اصلاحی امور کے لیے کام کرے گی اور اس طرح ہم سیاسیت اور دین کی دعوت کو علاحدہ کر دیں گے۔ اگر مذہب کو کسی ایک پارٹی سے مربوط کردیا جائے تو اسے نقصان پہنچتا ہے"۔

الغنوشی نے باور کرایا کہ "ملک میں انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے جامع قومی یکجہتی کو یقینی بنانا ضروری ہے"۔

دوسری جانب "النہضہ تحریک" کی جانب سے سیاست اور دین کی دعوت کو علاحدہ کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے تیونس میں اسلامی تحریک کے امور کے ماہر اور محقق شکری بن عیسی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ "تحریک کی جانب سے اس اقدام کو سمجھنا مشکل نظر آتا ہے۔ سیاست کو دعوت سے علاحدہ کر کے اس کے اثرات اور نتائج پر غور کیے بغیر ایک شہری جمہوری قومی پارٹی کا روپ اختیار کر لینا تحریک کی تاریخ کا خطرناک ترین فیصلہ ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں