"البغدادی" کا ذاتی محافظ کون ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی کردستان میں سیکورٹی قیادت نے انکشاف کیا ہے کہ داعش تنظیم میں انٹیلجنس بیورو کے چیف اور تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی سیکورٹی کے نگراں علی الاسود کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ انٹیلجنس معلومات کی بنیاد پر ہونے والی کارروائی میں بین الاقوامی اتحادی طیاروں نے نینوی صوبے کے گاؤں تل عزبہ کے قریب علی الاسود اور دیگر دو بڑے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا۔

علی الاسود کا پورا نام "علی اسود الزوبعی ابو مجاهد" ہے۔ 1978 میں پیدا ہونے والے علی کا تعلق خان ضاری کے علاقے سے ہے۔ افغانستان سے واپس آنے والے عراقیوں سے متاثر ہونے والی شدت پسند تنظیموں میں شامل رہا۔ 2003ء سے ابوبکر البغدادی کے ساتھ رہا اور اس کی نقل و حرکت کی سرگرمیوں کا ذمہ دار تھا۔

دہشت گرد جماعتوں کے امور کے ماہر "ہشام الهاشمی" کے مطابق افغانستان سے واپس لوٹ کر آنے والوں میں سے چند اہم ناموں میں محمد حسين الجبوری اس وقت انصار السنہ کا کمانڈر ہے، محمد يوسف الفلسطينی شام میں جند الاقصی کا کمانڈر ہے اور ہلاک ہوچکا ہے۔ عبد الحميد ابوعزام یورپ میں القاعدہ کے لیے بھرتی کرنے والے نیٹ ورکس کا ذمہ دار ہے اور محمد صالح بغداد میں داعش تنظیم کا سکریٹری ہے"۔

یہ تمام افراد الاسود الزوبعی کے لیے آئیڈیل شخصیات رہیں۔

واضح رہے کہ داعش تنظیم میں درجہ بندی سے متعلق کسی بھی رپورٹ میں الزوبعی کو قیادت کی اولین صفوں میں نہیں رکھا گیا۔ جن میں اہم ترین "البغدادی کے بعد داعش میں دوسری اہم ترین شخصیت علاء العفری، ابو علی الانباری، ابو عمر الشیشانی، ابو محمد العدنانی، ابو سلیمان الناصر" شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں