شام میں لڑنے والے اکثر نوجوان رضاکار ہیں : پاسداران انقلاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں تسنیم نیوز ایجنسی نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے بتایا ہے کہ بہت سے ایرانیوں نے شام میں بشار الاسد کی حکومت کے شابہ بشانہ لڑنے کے لیے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا۔ ایجنسی کے مطابق پاسدران انقلاب میں تعلقات عامہ کے دفتر کے سربراہ رمضان شریف نے بتایا کہ بشار الاسد کی حکومت کا ساتھ دینے کے لیے جانے والے رضاکاروں میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے۔

اس طرح تہران اور بشار الاسد کی حکومت کے درمیان عسکری اتحاد کی خطوط روز بروز سامنے آرہی ہیں۔ اس سے قبل ایران ہمیشہ شامی اپوزیشن کے ان الزامات کی تردید کرتا رہا کہ تہران حکومت اپنے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد کو شام میں جھونک رہی ہے۔

گزشتہ ماہ تہران حکومت نے ذکر کیا تھا کہ اس کی اسپیشل فورسز کے عناصر کو مشاورتی کردار کے سلسلے میں شام بھیجا گیا ہے جو اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ وہ صرف پاسداران انقلاب ہی نہیں بلکہ اپنی سرکاری فوج کے ساتھ بھی شامی حکومت کی معاونت کررہی ہے۔

تاہم اس کے بعد ایرانی فوج کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ یہ افراد رضا کار ہیں جو پاسداران انقلاب کی نگرانی میں کام کر رہے ہیں اور سرکاری فوج کا اس تنازع سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔

اسی سیاق میں مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کے یہ بیانات درحقیقت ملک کے اندر عوامی غم و غصے کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش ہے جو شام میں بالخصوص حلب اور خان طومان میں ایرانیوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں پر بپھرے ہوئے ہیں۔ ایرانی میڈیا شام میں پاسداران انقلاب اور اس کے زیرانتظام باسیج ملیشیا کے 100 سے زیادہ اہل کاروں کے مارے جانے کا ذکر کر رہا ہے جن میں پاسداران انقلاب کے سینئر افسران بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں