لبنانی بینکوں میں حزب اللہ کے ارکان پارلیمنٹ اور وزراء کے کھاتے منجمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ایک اقتصادی ماہر نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو میں انکشاف کیا ہے کہ لبنانی بینکوں نے امریکی پابندیوں کی فہرست کا اطلاق کرتے ہوئے حزب اللہ سے متعلق شخصیات کے کھاتوں کو منجمد کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری پابندیوں کے نظام کے تحت 100 ناموں کو پابندی کی فہرستوں میں رکھا گیا ہے۔

ڈاکٹر غازی وزنی کے مطابق امریکی پابندیوں کے قانون کے تحت کسی بھی جگہ کسی بھی کرنسی میں ہونے والی ٹرانزیکشن ممنوع ہوگی۔ ان کرنسیوں میں لبنانی لیرہ اور یورو شامل ہیں۔

وزنی کے مطابق بعض لبنانی بینکوں نے امریکی قانون کے بے سوچے سمجھے اطلاق کو اپناتے ہوئے حزب اللہ کے وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں کو بھی روک دیا تھا جب کہ یہ رقوم دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے قوانین کے تحت نہیں آتی ہیں کیوں کہ ان تنخواہوں کا ذریعہ معلوم ہے۔

حال ہی میں سامنے آنے والی اس ڈرامائی پیش رفت کے سبب حزب اللہ کے ذمہ داران اور حکومتی وزراء کی لبنانی بینکوں کے ساتھ کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ بالخصوص ملک کے مرکزی بینک کی جانب سے 3 مئی کو جاری سرکلر نمبر 137 کے بعد جس میں امریکی قانون 2297 کے مندرجات کے ساتھ توافق نظر آتا ہے۔

یہ سرکاری بینکنگ "تنازع" ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ لبنانی بینکوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف امریکی پابندیوں کے قانون پر عمل درامد سے بینکنگ سیکٹر میں تجارتی سرگرمیاں متاثر نہیں ہونا چاہیں۔

یہاں ایک سوال یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ آیا کہ ایک جانب امریکی کانگریس کی جانب سے حزب اللہ کو عالمی بینکنگ کے نظام سے علاحدہ کرنے کی کوششوں اور دوسری جانب لبنانی معیشت اور اس کے بینکنگ نظام کو تحفظ فراہم کرنے کی کوششوں میں کسی توازن کا امکان ہے۔

اصولی طور پر لبنان کے مرکزی بینک کا سرکلر 137 اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ مرکزی بینک کے تحت تمام لبنانی بینکوں اور مالیاتی اداروں کی نگرانی کے ذریعے امریکی قانون پر عمل درامد کو یقینی بناتے ہوئے حزب اللہ کو غیرملکی مالیاتی اور دیگر اداروں کے ساتھ معاملات سے روکا جائے۔

لبنان کے مرکزی بینک میں منی لانڈرنگ دہشت گردی کی سپورٹ کے لیے رقوم کی منتقلی کے انسداد کے سلسلے میں ایک تحقیقاتی کمیشن بھی بنایا گیا ہے۔ بینکوں کی جانب سے بند کیے جانے والے یا منجمد کیے جانے والے کھاتوں کی اطلاع اس کمیشن کو دینا لازمی ہے۔ اس چیز نے مقامی بینکوں کو امریکی قانون پر عمل درامد کے لیے ایک قانونی حجت فراہم کردی ہے۔

لہذا لبنان کے مقامی بینکوں کو اندیشہ ہے کہ امریکی قانون پر عمل درامد نہ کرنے کی صورت میں ان کا اندراج امریکی وزارت خزانہ میں غیرملکی اثاثوں کی نگرانی کرنے والے بیورو OFAC کی جانب سے جاریSDN پابندیوں کی فہرست میں کرلیا جائے گا۔ بعد ازاں امریکی اور یورپی بینکوں کی جانب سے ان بینکوں کے ساتھ تمام معاملات منقطع کرلیے جائیں گے۔

ڈاکٹر غازی وزنی نے بین لبنان کی بین الاقوامی مالیاتی ساکھ کے حوالے سے پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس پیش رفت کی بنیادی وجہ پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کردہ مالیاتی امور سے متعلق چار قوانین کا اجراء جو عالمی بینکنگ کے قوانین اور زیرعمل بین الاقوامی معاہدوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اسی طرح وزنی نے مالیاتی اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہا جو لبنانی بینکنگ سیکٹر کے حوالے سے سیکورٹی نیٹ ورک قائم کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اس سلسلے میں آخری اہم ترین پیش رفت Financial Action Task Force (GAFI) کی جانب سے اس بات کا اعتراف ہے کہ لبنان تمام تر بین الاقوامی شرائط پوری کر رہا ہے۔ .

لبنان کے مرکزی بینک کے گورنر نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ مرکزی بینک کے سرکلر 137 پر عمل درآمد کے حوالے سے چند بنیادی نکات پیش کیے گئے ہیں۔ ان میں نمایاں ترین یہ ہیں :

* جو بینک امریکی قانون کی خلاف ورزی کی بنیاد پر اداروں یا افراد کے کحاتے بند کرنا چاہتے ہیں ان پر لازم ہے کہ اس اقدام سے قبل اس کا جواز پیش کریں۔

* پیش کیے جانے والے جواز میں کھاتے کی تفصیلات شامل ہوں۔ (حجم / سرگرمی کی رفتار)

* بینک پر لازم ہوگا کہ وہ کھاتے بند کرنے سے قبل خصوصی تحقیقاتی کمیٹی کے جواب کا انتظار کرے۔ اگر 30 روز میں جواب موصول نہ ہو تو بینک اپنی ذمہ داری پر اقدام کرسکتا ہے۔

* بینکوں اور خصوصی تحقیقاتی کمیٹی کے لیے ممکن ہوگا کہ اگر ضرورت محسوس ہو تو معاملے کو سپریم بینکنگ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔

ادھر بدھ کے روز بینکنگ سوسائٹی کے وفد اور وزیر مالیات علی حسن خلیل کے درمیان ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں حزب اللہ اور بینکنگ سوسائٹی کے بحران کو میڈیا سے دور رہ کر نمٹانے پر اتفاق رائے ہوا۔

بعد ازاں وفد نے حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ علی فیاض سے سن کے دفتر میں ملاقات کی جو کہ بینکنگ سوسائٹی اور حزب اللہ کے درمیان پہلی براہ راست بات چیت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں