.

سعودی مساجد میں اعتکاف کے لیے رجسٹریشن قوانین سخت

مساجد میں چندہ جمع کرنے اور فطرانے کے لین دین کی بھی ممانعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور ودعوت ارشاد نے دہشت گردی اور تخریب کاری کے خدشات کے تناظرمیں ماہ صیام کے دوران مساجد میں اعتکاف بیٹھنے والے حضرات کے لیے قوانین سخت کردیے ہیں۔ حکومت نے ملک بھرکی مساجد کے آئمہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اعتکاف کے خواہش مند افراد کی مکمل چھان بین اور ان کے تمام کوائف کی سختی سے جانچ پڑتال کے بعد اعتکاف کے لیے رجسٹریشن کریں۔ آئمہ کو جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ اعتکاف کے خواہش مند ہرشخص سے اس کا قومی شناختی کارڈ چیک کیاجائے۔ شناختی کارڈ کی ایک نقل مسجد انتظامیہ کے پاس بہ طور ثبوت لازمی رکھی جائے۔ اگر کوئی غیرملکی اعتکاف میں بیٹھنا چاہتا ہے تواس کے لیے اس کے دیگر کوائف کے ساتھ کفیل کا اجازت نامہ بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزارت مذہبی امور کی جانب سے مساجد میں چندہ جمع کرنےاور فطرانہ لینے کی سختی سے ممانعت کردی ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف رجسٹرڈ فلاحی اداروں کو عطیات اور فطرانہ کی رقوم ادا کریں۔ کوپن کے ذریعے کسی کو چندہ دیا جائے اور نہ ہی فطرانہ ادا کیا جائے۔ اگر کوئی غیرملکی روزہ داروں کی اجتماعی افطاری کا خواہاں ہو تو اسے پہلے مقامی حکومت سے اس کی اجازت حاصل کرنا ہوگی۔

وزارت مذہبی امور کی جانب سے علماء اور آئمہ مساجد کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ دعاؤں میں مسنون دعاؤں ،دعائے قنوت اور قرآن وسنت میں بیان کردہ دعاؤں پر اکتفا کریں۔ دعا میں فرقہ وارانہ لب ولہجہ اختیار کرنے کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مکہ مکرمہ کے نظام الاوقات کے سوال اذان ونماز کے دیگر تمام نظام الاوقات منسوخ کردیے جائیں۔