شامی فوج کے فضائی حملوں میں 21 شہری ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی فوج نے ملک کے بعض وسطی شہروں اور قصبوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں سات بچوں سمیت اکیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق نے جمعہ کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ شامی فوج نے وسطی قصبے الحولہ اور اس کے نواح میں واقع دیہات پر بیرول بم برسائے ہیں۔اس بمباری سے چار بچوں سمیت چودہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

شامی فوج پر ماضی میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شہری علاقوں پر بیرل بموں سے حملوں کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔ان کی بمباری سے شہریوں کو بلا امتیاز نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوتی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں ماضی میں شامی فوج کو ان بیرل بموں کی وجہ سے متعدد مرتبہ تنقید کا نشانہ بنا چکی ہیں۔

رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ محصور وسطی قصبے رستن پر شامی فوج نے فضائی حملہ کیا ہے جس سے تین بچوں سمیت سات شہری مارے گئے ہیں۔ رستن صوبہ حمص میں واقع ہے اور اس صوبے میں یہی قصبہ باغیوں کے زیر قبضہ رہ گیا ہے۔شامی فوج نے سنہ 2012ء سے اس کا محاصرہ کررکھا ہے اور ماضی میں بھی اس پر فضائی حملے کیے جاچکے ہیں۔

بدھ کے روز اس قصبے میں شامی فوج کی بمباری سے ایک ہی خاندان کے تیرہ افراد مارے گئے تھے۔ان میں آٹھ بچے شامل تھے۔واضح رہے کہ شامی رصدگاہ ملک میں 2011ء کے وسط سے جاری لڑائی کے بعد سے تشدد کے واقعات میں مرنے والوں اور زخمیوں سے متعلق اعداد وشمار جاری کررہی ہے۔

شام میں امریکا کی قیادت میں اتحاد کے فضائی حملوں اور روس کی فوجی مداخلت کے بعد سے رصدگاہ کا کام بڑھ گیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا نیٹ ورک اب پروازوں کے انداز،طیاروں کی قسم اور استعمال کیے گئے اور بموں اور بارود سے حملہ آور فریق کا اندازہ لگاتا ہے کہ یہ کس ملک نے کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں