مسلم ممالک کا اقوام متحدہ میں اسرائیلی نمائش سے پینل ہٹانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عرب اور اسلامی ممالک نے اقوام متحدہ سے اسرائیل کی ایک نمائش میں موجود ایک پینل کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔اس پینل میں مقبوضہ بیت المقدس (یروشیلم) کو یہودی عوام کا روحانی اور مادی دارالحکومت قراردیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ میں فلسطینی مشن نے سیکریٹری جنرل بین کی مون اور جنرل اسمبلی کے صدر موجینز لیکٹوفٹ کے نام ایک خط لکھا ہے۔اس میں مقبوضہ بیت المقدس کے بارے میں اسرائیلی نمائش کے بیانیے کو سختی سے مسترد کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ میں عرب اقوام اور ستاون مسلم ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم نے بھی اس پر احتجاج کیا ہے۔

فلسطینی مشرقی القدس کو مستقبل میں قائم ہونے والی اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔فلسطینی مشن نے اپنے خط میں کہا ہے کہ ''ایسا کوئی بھی حوالہ جس سے اس سرزمین پر اسرائیل کی خود مختاری ثابت ہو ،قانونی ،سیاسی اور اخلاقی طور پر نادرست ہے اور ناقابل قبول ہے''۔

فلسطینی ناظم الامور فدا عبدالہادی ناصر نے کہا ہے کہ ''مقبوضہ القدس کی گمراہ کن اور نامناسب تصویر کشی سے اس شہر میں فلسطینیوں کی موجودگی سے انکار کی کوشش کی گئی ہے۔اس کے علاوہ اس کی عرب ،مسلم اور مسیحی ورثے کی شناخت کو بھی چھپانے کی کوشش کی گئی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی اسرائیل کے مشرقی القدس کو ضم کرنے کے اقدام کو غیر قانونی دے کر مسترد کرچکی ہے''۔انھوں نے بین کی مون اور لیکٹوفٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ ''وہ پینل کو ہٹانے کے لیے ضروری اقدامات کریں''۔

اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا ہے کہ اسرائیلی مشن نے نمائش کے لیے قواعد وضوابط کی پیروی کی ہے۔اقوام متحدہ اس ملک کی خواہشات کو متوازن بنانے کے لیے کوشاں ہے۔اس لیے اس کی خواہش ہے کہ اسرائیل کسی دوسرے ملک کو نقصان پہنچائے بغیر نمائش لگائے۔یہ کوئی بالکل درست سائنس ہے اور نہ ہمیشہ ایسا کرنا آسان ہوتا ہے''۔

اقوام متحدہ کی عمارت کی بیسمنٹ میں ایک مقبول کیفے کے نزدیک راہداری میں یہ نمائش لگائی گئی ہے۔اس میں اسرائیل میں آباد عربوں کے بارے میں پینلز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیکنالوجی کے میدان میں ایجادات اور اسرائیلی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں