مصر کے تباہ شدہ طیارے کا بحر متوسط سے ملبہ مل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصری فوج نے اپنے ملک کی قومی فضائی کمپنی کے لاپتا مسافر طیارے کا ملبہ تلاش کر لیا ہے۔مصراللطیران کا یہ طیارہ دوران پرواز پُراسرار طور پر سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا تھا اور اس کا ملبہ ساحلی شہر اسکندریہ سے 290 کلومیٹر شمال میں بحر متوسط سے ملا ہے۔

مصری فوج نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ بحریہ کو طیارے میں سوار بعض مسافروں کا سامان بھی ملا ہے اور اب وہ طیارے کے بلیک باکس کی تلاش میں ہے۔بلیک باکس ملنے کی صورت ہی میں حادثے کی وجوہ کا تعین کیا جاسکے گا۔

مصر للطیران کی پرواز 804 جمعرات کی صبح پیرس سے قاہرہ آتے ہوئے بحر متوسط میں گر کر تباہ ہوگئی تھی۔اس میں 56 مسافر اور عملے کے 10 ارکان سوار تھے۔یہ مسافر طیارہ( ائیربس 320 اے) یونانی جزیرے کریٹ اور مصر کی ساحلی پٹی کے درمیان پرواز کے دوران راڈار سے اچانک غائب ہوگیا تھا اور طیارے کے عملے نے کسی گڑبڑ کی کوئی نشان دہی نہیں کی تھی۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے قبل ازیں اس مسافر طیارے کے ملبے کی تلاش تیز کرنے کی ہدایت کی تھی۔قاہرہ سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق:''صدر نے شہری دفاع کی وزارت ،بحریہ اور فضائی افواج سمیت تمام متعلقہ اداروں کو مصری طیارے کی تلاش کا عمل تیز کرنے اور اس کا ملبہ ڈھونڈنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کی ہدایت کی تھی''۔

گذشتہ روز یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ مسافر طیارے کا ملبہ جزیرے کارپاتھوس کے نزدیک سے مل گیا ہے لیکن بعد میں یہ اطلاع درست ثابت نہیں ہوئی تھی۔مصر ائیر کے وائس چئیرمین احمد عادل نے سی سی این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بحر متوسط سے ملنے والا ملبہ اور مواد پرواز 804 کا نہیں تھا۔

مصر کے شہری ہوابازی کے وزیر نے گذشتہ روز یہ امکان ظاہر کیا تھا کہ مسافر طیارے کو حادثہ فنی خرابی کی وجہ سے پیش نہیں آیا بلکہ یہ دہشت گردی کے حملے کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

لیکن فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں مارک آیرو نے اس بیان کی تائید نہیں کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ''ائیربیس 320 اے کے تباہ ہونے کے سبب سے متعلق کوئی واضح اشارہ نہیں ملا ہے۔ہم تمام امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں اور حادثے کی کسی ایک وجہ کو ترجیح نہیں دی جارہی ہے اور نہ اس کے اسباب کا کوئی واضح طور پر فی الوقت پتا چل سکا ہے''۔

مصری طیارے کے اس طرح اچانک حادثے کا شکار ہونے کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ بھی روس کے مسافر طیارے کی طرح دہشت گردی کے کسی حملے کا نشانہ بنا ہے۔گذشتہ سال اکتوبر میں داعش نے روس کے ایک مسافر طیارے کو دوران پرواز بم سے اڑا دیا تھا اور وہ پرواز کے تھوڑی دیر بعد جزیرہ نما سینا میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔اس میں سوار تمام 224 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ روس کا یہ طیارہ مصر کے ساحلی مقام شرم الشیخ سے سینٹ پیٹرز برگ سے جارہا تھا۔

درایں اثناء فرانس کی فضائی حادثات کی اتھارٹی (بی ای اے) اور ائیر بس کے تحقیقات کار مصری حکام کو اس پراسرار حادثے کی تحقیقات میں مدد دینے کے لیے قاہرہ پہنچ گئے ہیں۔

قاہرہ میں فرانسیسی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ بی ای اے کے تین سول ایوی ایشن ماہرین اور ائیربس کے ایک ٹیکنیکل مشیر رات قاہرہ پہنچے تھے اور وہ آج مصری حکام سے طیارے کے حادثے کی تحقیقات کے سلسلے میں بات چیت کرنے والے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں