وڈیو : شام یہاں تک کیسے پہنچا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک وڈیو بہت تیزی سے پھیل گئی ہے جس کا عنوان ہے "محض یہ ہے شام.. شام یہاں تک کیسے پہنچا"۔

"آفاق اکیڈمی فار ڈیولپمنٹ اینڈ چینج" کی جانب سے تیار کردہ یہ وڈیو گرافکس پر مشتمل ہے جس میں شام میں جاری حالیہ واقعات اور حافظ الاسد کے دور حکومت کے وقت سے ان حالات کی بنیاد کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔

"آفاق اکیڈمی" کی جانب سے وڈیو کے ساتھ شامل متن میں بتایا گیا ہے کہ "شام میں ہلاکتوں کا سلسلہ 2011 کی انقلابی تحریک کے ساتھ شروع نہیں ہوا بلکہ اس کا آغاز تو 1970 کے انقلاب میں حافظ الاسد کے اقتدار حاصل کرنے کے ساتھ ہوگیا تھا۔ اس نے تین دہائیوں تک اسلحے اور طاقت کے زور پر شام پر حکمرانی ، اس دوران خونریز واقعات میں دسیوں ہزار افراد ہلاک اور لاپتہ ہوئے اور ہجرت پر مجبور ہوئے۔ ظلم کی ان داستانوں کا بہت کم حصہ میڈیا کے ذریعے منظرعام پر آسکا"۔

اکیڈمی کے مطابق بشار الاسد کے ساتھ بھی معاملہ مختلف نہ ہوا جس کو رواں صدی کے آغاز پر اپنے باپ سے "جمہوریت" ورثے میں ملی۔ حافظ الاسد کے انقلاب کے دور میں پیش آنے والے واقعات اور اب جو کچھ ہورہا ہے اس میں واحد فرق یہ ہے کہ موجودہ شامی حکومت قتل کی جو کارروائیاں کر رہی ہے وہ "مہذب" دنیا کی آنکھوں اور کانوں کے سامنے جاری ہے۔ شامی عوام کو یہ قیمت اس لیے ادا کرنا پڑ رہی ہے کہ انہوں نے آزادی اور وقار کا مطالبہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں