کیا مصری طیارہ "جدّت پسند" دہشت گردوں نے گرایا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جمعرات کے روز بحیرہ روم میں گر کر تباہ ہونے والے مصری مسافر طیارے کا ملبہ مصر کے شہر اسکندریہ سے 290 کلومیٹر شمال میں مل گیا۔ طیارے کے حادثے کے پیچھے اصل وجوہات کے انکشاف کا انتظار کیا جا رہا ہے تاہم اس دوران اکثر آراء اور تبصروں میں دہشت گرد کارروائی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

اسی سیاق میں برطانوی اخبار "دی ٹائمز" کا کہنا ہے کہ اگر یہ بات درست ہے کہ مصری طیارے کا حادثہ کسی تباہ کن دہشت گرد کارروائی کا نتیجہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ دہشت گرد اپنے حملوں کی منصوبہ بندی پر عمل درامد کرنے کے لیے زیادہ جدید وسائل بروئے کار لانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ یورپی ہوائی اڈوں پر سیکورٹی انتظامات کافی پیچیدہ ہوتے ہیں جن کو پار کرنا جانا کسی طور آسان نہیں۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں اس جانب اشارہ کیا ہے کہ داعش تنظیم ایک ماہ قبل شرم الشیخ سے اڑان بھرنے والے روسی طیارے کو تھوڑی دیر بعد ہی دھماکے سے اڑا دینے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ تنظیم نے کارروائی کی تصاویر بھی جاری کی تھیں جن ثابت ہوتا ہے کہ اس کی منصوبہ بندی داعش نے کی۔ دھماکے کی کارروائی میں ایک " اسمارٹ ڈیوائس" کا استعمال کیا گیا جس کا روٹین کے سیکورٹی انتظامات میں انکشاف ہونا بیشتر اوقات ممکن نہیں ہوتا۔

اخبار کا کہنا ہے کہ داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں ایسے مواد کے استعمال کا سہارا لے رہی ہیں جن کا طیارے میں داخلہ ممنوع نہیں ہوتا یا پھر ہوائی اڈے پر لگے سینسر ان کا پتہ نہیں چلاتے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ استعمال میں لائے جانے والے دھماکا خیز آلات پہلے سے زیادہ جدید ہوگئے ہیں۔

اخبار کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ خودکش حملہ آور دھماکا خیز آلے کو اپنے پیٹ میں چھپانے میں کامیاب ہوگیا اور پھر اس کے ساتھ جہاز پر سوار ہوگیا۔ یہ ایسا امکان ہے جس کو سیکورٹی اداروں کی جانب سے ابھی تک نوٹ نہیں کیا گیا۔

"دی ٹائمز" اخبار نے متعدد امکانات پیش کیے ہیں جن کے نتیجے میں جہاز گر سکتا ہے۔ ایک امکان یہ ہے کہ جہاز کو داعش کے زیرکنٹرول علاقے سے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جیسا کہ ملائیشیا کے طیارے کے ساتھ ہوا جس کو یوکرین کی فضائی حدود میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا اگرچہ طیارہ بہت زیادہ بلندی پر پرواز کر رہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں