عراق: گرین زون تصادم میں چار ہلاک، 90 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بغداد میں شدید سیکیورٹی حصار میں گھرے گرین زون پر مظاہرین کے حملے کے دوران چار افراد ہلاک جبکہ 90 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

عراقی سیکیورٹی فورسز نے دھاتی اور ربڑ کی گولیوں میں کے ساتھ ساتھ مظاہرین کو گرین زون سے باہر رکھنے کے لئے آنسو گیس کا آزادانہ استعمال کیا۔ بغداد کے گرین زون میں سرکاری عمارات، پارلیمان اور سفارتخانے واقع ہیں۔

یہ تمام اعداد وشمار عراق کے طبی ذرائع کی جانب سے جاری کی گئی ہے اور انہیں چار ہسپتالوں سمیت بغداد کے مرکزی مردہ خانے سے اکٹھا کیا گیا ہے۔ مرنے والے تمام افراد دھاتی گولیاں لگنے کی وجہ اپنی جانوں سے ہاتھ گنوا بیٹھے تھے۔

ان مظاہرین میں ممتاز شیعہ عالم دین مقتدیٰ الصدر کے حامی اور دیگر افراد شامل ہیں جو کہ عراقی حکومت کی جانب سے کرپشن کی روک تھام کے اصلاحات لانے اور داعش کے حملوں کے نتیجے میں سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے میں ناکام ہوگئے تھے

حکومت نے جمعہ کے روز ایک محدود مدت کے لئے بغداد بھر میں کرفیو لگا دیا تھا اور حکام نے بعد میں اعلان کیا تھا کہ بغداد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صورتحال پر قابو پا لیا ہے۔

عراق کے صدر حیدر العبادی نے رات گئے ایک تقریر میں گرین زون پر حملے کی مذمت کی اور افراتفری اور ہنگامہ آرائی سے خبردار کیا۔

مقتدیٰ نے اس موقع پر "پر امن بغاوت" کی حمایت کی اور حکومت کی جانب سے اس کے "اپنے بچوں کے قتل" کی مذمت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں