شام : بشار کی جیلوں میں "تشدد" سے 60 ہزار افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں سرکاری جیلوں بالخصوص حماہ کی جیل میں گرفتار شدگان کے بحران کی سنگینی میں اضافے کے بعد انسانی حقوق کی رصدگاہ نے انکشاف کیا ہے کہ بشار حکومت کے قیدخانوں میں 60 ہزار کے قریب افراد تشدد کے سبب ہلاک ہوچکے ہیں۔

رصدگاہ کے مطابق یہ اعداد و شمار سیکورٹی اداروں میں موجود باوثوق ذرائع کے تصدیق شدہ ہیں۔ ان میں فضائی انٹیلجنس، اسٹیٹ سیکورٹی انٹیلجنس اور صیدنایا ملٹری جیل کے ذرائع اہم ترین ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران حکومتی جیلوں میں براہ راست جسمانی تشدد یا خوراک اور دوا سے محروم رکھے جانے کے سبب کم از کم 60 ہزار گرفتار شدگان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

رصد گاہ کے مطابق وہ 18 مارچ 2011 کو انقلابی تحریک کے آغاز سے (آج)21 مئی 2016 تک کی صبح تک 14456 گرفتار شدگان کی ہلاکت کی تصدیق کرچکی ہے۔ ان میں اٹھارہ برس سے کم عمر 110 بچے اور اٹھارہ برس سے زاید عمر کی 53 خواتین بھی شامل ہیں۔

شامی حکام نے ان میں سے بعض کی میتوں کو ان کے گھر والوں کے حوالے کیا جب کہ دیگر لوگوں کو صرف اطلاع پہنچا دی گئی کہ ان کے فرزند جیلوں میں مرچکے ہیں اور اہل خانہ ان کے موت کے سرٹفکیٹ نکلوا لیں۔ اس کے علاوہ حکومتی جیلوں میں تشدد سے ہلاک ہونے والے بعض گرفتار شدگان کے گھر والوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ ان اس تحریری بیان پر دستخط کریں کہ اپوزیشن کے جنگجو گروپوں نے ان افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں