روس کا حلب میں جنگ بندی کے بعد پہلا فضائی حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روس کے لڑاکا طیاروں نے شام کے شمالی صوبے حلب میں باغیوں کے ایک اہم سپلائی روٹ پر بمباری کی ہے۔فروری میں شامی حکومت اور باغیوں کے درمیان جنگ بندی کے بعد سے اس صوبے میں روس کا یہ پہلا فضائی حملہ ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ ''روس اور شام کے لڑاکا طیاروں نے اتوار کو کاسٹیلو روڈ پر مل کر کم سے کم چالیس فضائی حملے کیے ہیں۔فروری کے بعد ان کی اس شاہراہ یہ شدید ترین بمباری ہے''۔

حلب میں جنگ بندی پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے اور باغی گروپوں اور شامی فوج کے درمیان گذشتہ ماہ سے جھڑپیں جاری ہیں۔شامی فوج باغیوں کے زیر قبضے حلب کے مشرقی حصے پر بمباری بھی کررہی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم تین سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

حلب کے شمال میں موجود باغیوں کو کاسٹیلو روڈ کے ذریعے ہی سامان رسد پہنچایا جاتا ہے۔فروری میں امریکا اور روس کی ثالثی کے نتیجے میں شام میں جنگ بندی کے بعد حلب میں متحارب فوجوں کے درمیان کئی ہفتے تک لڑائی نہیں ہوئی تھی لیکن کاسٹیلو روڈ پر فریقین کے درمیان جھڑپیں جاری رہی تھیں۔

واضح رہے کہ حلب سنہ 2012ء سے دو حصوں میں منقسم چلا آرہا ہے۔شہر کے مغربی حصے پر شامی فوج کا کنٹرول ہے اور مشرقی حصے پر باغیوں کا قبضہ ہے۔ شامی فوج آئے دن باغیوں کے ٹھکانوں پر تباہ کن فضائی حملے کرتی رہتی ہے جبکہ باغی گروپ جواب میں راکٹ حملے یا گولہ باری کرتے رہتے ہیں۔

شہر کے نواحی علاقوں میں صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے اور باغیوں کا حلب کے مغرب میں واقع علاقوں پر قبضہ ہے جبکہ شامی فوج نے مشرقی علاقوں پر قبضہ کررکھا ہے۔روس کی شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں فضائی کمک آنے کے بعد سے باغیوں کو بعض علاقوں سے محروم ہونا پڑاہے اور وہ روسی طیاروں کی تباہ کن بمباری کے نتیجے میں پسپا ہوگئے ہیں۔

روس نے گذشتہ جمعے کے روز امریکا کے ساتھ مل کر آیندہ بدھ سے شام میں جہادیوں کے خلاف فضائی حملوں کی تجویز پیش کی تھی لیکن امریکا نے اس کو مسترد کردیا تھا۔

پینٹاگان کے ترجمان نیوی کپتان جیف ڈیوس نے کہا تھا کہ امریکی فوج شام میں کسی کارروائی میں روسی فوج کے ساتھ کوئی تعاون یا رابطہ نہیں کرتی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی کا کہنا تھا کہ ماسکو کے ساتھ کسی بات پر اتفاق رائے نہیں ہوا ہے کیونکہ اس کا اتحادی دمشق فروری کے بعد سے ملک میں ہونے والی بیشتر جنگی خلاف ورزیوں کا ذمے دار ہے۔

واضح رہے کہ روسی فوجی اور کمانڈوز شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے شانہ بشانہ باغی گروپوں کے خلاف لڑرہے ہیں اور میدان جنگ میں اسدی فوج کی رہ نمائی بھی کررہے ہیں۔روس 30 ستمبر سے شام میں داعش اور صدر بشارالاسد کے مخالف دوسرے ''دہشت گرد'' گروپوں پر فضائی حملے کررہا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں ایک تہائی عام شہری ہیں۔امریکا اور اس اتحادی اگست ستمبر 2014ء سے شام میں داعش اور دوسری جہادی گروپوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں