مشرق وسطی میں امریکی افواج کے سربراہ کا شام کا خفیہ دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں "داعش" تنظیم کے خلاف جنگ نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ مشرق وسطی میں امریکی افواج کی مرکزی کمان کے کمانڈر جنرل جوزف ووٹل نے شمالی شام کا خفیہ دورہ کیا۔ دورے کا مقصد شام میں داعش کے گڑھ الرقہ شہر پر حملے کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔

جنرل ووٹل نے شام میں گزارے گئے 11 گھنٹوں کے دوران عرب جنگجوؤں کے ساتھ کام کرنے والے امریکی فوجی ماہرین اور واشنگٹن کی حمایت یافتہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کی قیادت سے ملاقات کی۔

مشرق وسطی میں امریکی افواج کے سربراہ داعش کے خلاف امریکی فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد شام کا دورہ کرنے والے اعلی ترین امریکی اہل کار ہیں۔ انہوں نے اپنے مختصر دورے میں ساتھ آئے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ دورے کا مقصد داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے عربوں اور کردوں کے اتحاد کا قیام ہے۔

جنرل ووٹل کے مطابق امریکی ویژن میں "داعش" کے خلاف جنگ کے سلسلے میں بہترین آپشن مقامی فورسز کو سپورٹ کرنا ہے۔ اس دوران سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کی قیادت نے امریکی کمانڈر سے مطالبہ کیا کہ انہیں بکتربند گاڑیوں اور بھاری ہتھیاروں کے علاوہ راکٹ لانچرز اور مارٹر گولے فراہم کیے جائیں۔

ادھر الرقہ کے معرکے کی تیاری کے سلسلے میں بین الاقوامی اتحاد کی جانب سے پمفلٹ گرائے گئے جن میں مقامی آبادی سے کوچ کرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ شام میں انسانی حقوق کی رصدگاہ کے مطابق اگرچہ یہ اقدام داعش کے خلاف ذرائع ابلاغ کی جنگ کے ضمن میں آتا ہے تاہم اسی دوران کچھ عرصے سے یہ اطلاعات بھی گردش میں ہیں کہ کرد فورسز بین الاقوامی اتحاد کی سپورٹ کے ساتھ الرقہ شہر میں داعش کے خلاف مہم شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

دوسری جانب "داعش" نے الرقہ میں بجنے والے طبل جنگ کا جواب ایک صوتی ریکارڈنگ کے ذریعے دیا ہے جس میں رمضان کے مہینے میں امریکا اور یورپی ممالک کے خلاف بھرپور حملوں پر زور دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام کا مقصد اپنے جنگجوؤں کے مورال کو بلند کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں