.

نیتن یاہو نے فرانس کا امن اقدام مسترد کردیا

فلسطینی صدر محمود عباس سے پیرس میں براہ راست بات چیت کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے فرانس کا کثیر الجہت امن اقدام مسترد کردیا ہے اور اس کے بجائے فلسطینی صدر محمود عباس سے براہ راست بات چیت کی پیش کش کی ہے۔

نیتن یاہو نے سوموار کو فرانسیسی وزیراعظم مینول والس سے مقبوضہ بیت المقدس میں ملاقات کے دوران یہ نئی پیش کش کی ہے اور مہمان وزیراعظم کا کہنا ہے کہ وہ اس تجویز پر صدر فرانسو اولاند سے بات کریں گے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ فلسطینیوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات ہی امن کی جانب آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔انھوں نے ایک مختلف فرانسیسی اقدام کی تجویز پیش کی ہے جس کے تحت وہ پیرس میں محمود عباس سے بالمشافہ ملاقات کو تیار ہیں۔

مینول والس اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کے دورے پر ہیں اور انھوں نے انتہاپسند نیتن یاہو سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے سلسلے میں اپنے ملک کے امن منصوبے پر بات چیت کی ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے 3 جون کو پیرس میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلانے کا خیرمقدم کیا ہے۔اس میں اسرائیلی اور فلسطینی وفود شرکت نہیں کریں گے۔اس کے بعد خزاں میں ایک اور کانفرنس ہوگی اور اس میں اسرائیلی اور فلسطینی شریک ہوں گے۔اس کا مقصد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی ہے تا کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہوسکے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان اپریل 2014ء سے براہ راست مذاکرات معطل ہیں۔نیتن یاہو مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کی بحالی کے لیے فرانسیسی اقدام پر پہلے بھی تنقید کرچکے ہیں اور وہ محمود عباس سے براہ راست ملنے کی پیش کشیں کرتے رہتے ہیں۔

لیکن فلسطینی قیادت ان کے ساتھ کسی تیسری طاقت کی ثالثی یا موجودگی کے بغیر براہ راست مذاکرات جاری رکھنے کے حق میں نہیں اور اس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سالہا سال کے مذاکرات میں تنازعے کے حل اور فلسطینی علاقوں پر صہیونی قبضے کے خاتمے کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے،اس لیے وہ اب فلسطینی تنازعے کو عالمی اداروں میں اٹھا رہے ہیں اور اس میں انھیں سفارتی سطح پر کچھ کامیابی بھی ہوئی ہے۔