.

مصری طیارے میں سوار سب سے کم عمر شکار !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعرات کے روز پیرس سے قاہرہ آنے والے مصری مسافر طیارے کے حادثے میں 66 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ مسافروں میں 7 ماہ کی شیرخوار جمانہ فیصل بطيش اور اس کا 2.5 سالہ بھائی محمد فيصل بطيش بدقسمت طیارے میں موت کا شکار ہونے والے سب سے کم عمر مسافر تھے۔

بچوں کا الجزائری نژاد باپ فيصل بطيش فرانسیسی شہریت رکھتا تھا۔ وہ اپنی چھوٹے سے گھرانے کے ساتھ شرم الشیخ میں چھٹیاں گزارنے کے لیے مصر آرہا تھا تاہم قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" کے مطابق بچوں کی پھوپھی کا کہنا ہے کہ اس کا بھائی جنوبی فرانس کے شہر "اینجرس" میں سبزیوں اور اجناس کی ایک دکان میں کام کرتا تھا۔ اس کو 3 سال سے چھٹی نہیں ملی تھی اور اب وہ شرم الشیخ میں تعطیلات گزارنے کا ارادہ رکھتا تھا تاکہ کام کی تھکن اتارنے کے ساتھ ساتھ اپنے اہل خانہ کو بھی خوشیاں فراہم کرسکے۔ تاہم تقدیر نے اس خاندان کو ابدی تعطیلات کے لیے چن لیا۔

فیصل بطیش کا تعلق الجزائر کے شہر واد سقان سے ہے۔ اس کا خاندان کئی دہائیوں قبل فرانس ہجرت کر گیا تھا۔ فیصل کی شادی بھی الجزائر کی ایک خاتون نہی سعود سے ہوئی تھی جو خود بھی اس حادثے میں موت کی نیند سوگئی۔