.

مصر: الاخوان میں نظریاتی نظرثانی کی آواز بلند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں اخوان المسلمین تنظیم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مصر میں بھی اخوان کے ایک ونگ نے دینی دعوت کو سیاسی عمل سے علاحدہ کرنے کے حوالے سے نظریاتی نظرثانی کا پرچم تھام لیا ہے۔

اس سلسلے میں تنظیم کی مجلس شوری کے رکن اور رہ نما جمال حشمت کا کہنا ہے کہ دعوتی عمل کو سیاسی عمل سے علاحدہ کیے جانے کا معاملہ زیربحث لانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور اس سلسلے میں جماعت کے ترجمان طلعت فہمی کی جانب سے مثبت جواب سامنے آیا ہے۔

تاہم مبصرین کا سوال ہے کہ تنظیم اور ریاست کے درمیان آٹھ دہائیوں تک جاری رہنے والی رسہ کشی کے بعد اس نظریاتی نظرثانی میں کتنی سنجیدگی ہے !

اس سلسلے میں تیونس کی اخوان اور مصر کی اخوان تنظیم کی پوزیشن کے درمیان موازنہ کیا جا رہا ہے۔ تیونس میں تو النہضہ تحریک نے جمہوریت کی پاسداری کی یقین دہانی کرائی ہے جب کہ مصر کی اخوان میں اس حوالے سے اختلاف نظر آتا ہے جہاں بعض حلقے اس کی اہمیت کو بلند کرتے نظر آتے ہیں اور بعض اس کی حکمرانی کو کفر کے ذیل میں گردانتے ہیں۔

تیونس کی اخوان تنظیم نے اقتدار میں شراکت کو قبول کرلیا جب کہ مصر کی اخوان نے 2012 میں حکمرانی سنبھالتے ہوئے انفرادی حیثیت کو قائم رکھا تھا۔

یہاں مبصرین کا کہنا ہے کہ مصر کی اخوان تنظیم محض دعوتی عمل کو سیاست سے علاحدہ کرنے کی سوچ سے کہیں زیادہ کے متقاضی ہیں بالخصوص ان کے ریاست کے ساتھ ٹکراؤ اور پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے بعد۔

اخوان کے منحرف رہ نما سامح عید کا کہنا ہے کہ دعوت کو سیاست سے علاحدہ کرنے سے قبل پہلے تو دعوتی عمل کی ازسر نو تشریح ناگزیر ہے۔

دوسری جانب اخوان کی روش کے حوالے سے سب سے زیادہ بدشگونی خیال کرنے والے حلقے تنظیم کے بانی حسن البنا کے اس قول کو دیکھتے ہیں جو انہوں نے دعوتی عمل کو سیاسی عمل سے علاحدہ کرنے کے جواب میں دیا تھا۔ حسن البنا نے کہا تھا کہ جماعت کا جثہ بھاری ہے اور اس کا نیٹ ورک بہت وسیع و عریض لہذا اس کو ہلانے کا نتیجہ لامحالہ جماعت کے سقوط کی صورت میں آئے گا۔