.

حج پرمعاملات طے کرنے کے لیے ایرانی وفد ریاض روانہ

حج کے معاملے پر ایرانی قلا بازیاں بدستور جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی جانب سے اپنے شہریوں کو حج پر بھجوانے جانے کے معاملے پر مسلسل قلا بازیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ چند ہفتے قبل تہران سرکاری کی جانب سے حج کے معاملات کو سیاسی رنگ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے شہریوں کو حج پر نہیں بھجوائیں گے۔ ایران نے سعودی عرب کی تمام تر مساعی اور لچک کے باوجود حج پروٹوکول پر دستخط سے انکار کردیا تھا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی حکومت نے اپنے شہریوں کو حج پر نہ بھجوانے کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران وزارت حج کا ایک کمیشن حج کے معاملات طے کرنے جلد ہی ریاض جائے گا۔

ایران کے وائس چیئرمین حج کمیشن حمید محمدی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے ملک نے اپنے شہریوں کو حج پر نہ بھجوانے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ سعودی عرب کی طرف سے تہران سے ایک بار پھر رابطہ کیا گیا ہے جس میں کہا گیاہے کہ ایران اپنے شہریوں کو فریضہ حج کی ادائی سے منع نہ کرے اور حج جیسے مقدس فریضے کو سیاسی اختلافات کی بھینٹ نہ چڑھائے۔

مسٹر محمدی کا کہنا تھا کہ حج کمیشن کا ایک وفد سعید اوحدی کی قیادت میں آج سعودی عرب پہنچ رہا ہے۔ یہ وفد سعودی وزارت حج کی دعوت پر ریاض جا رہا ہے کیونکہ سعودی عرب کی طرف سے ایران سے بار دگر کہا گیا تھا کہ وہ عازمین حج کو فریضہ حج کی ادائی سے روکنے کا فیصلہ واپس لے اور حج پروٹوکول کی منظوری دینے کے لیے اپنا وفد ریاض بھیجے۔

حمید محمد ی نے خبررساں ایجنسی’تسنیم‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت حج سے متعلق انتظامی معاملات کا وقت ہاتھ سے نکل گیا ہے، اس کے باوجود ہم ایک وفد کو ریاض بھیج رہے ہیں۔ توقع ہے کہ حج کمیشن کے وفد کا دورہ سعودی عرب مفید اور نتیجہ خیز ثابت ہوگا اور اس کے حسب توقع نتائج سامنے آئیں گے۔

واضح رہے کہ سعودی کابینہ کی جانب سے گذشتہ ہفتے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب نے ایران سمیت کسی بھی ملک کے شہریوں کوفریضہ حج کی ادائی سے نہیں روکا ہے۔ اپنے شہریوں کو حج کے سفر سے کود ایران نے منع کرکے فریضہ حج کو سیاسی رنگ دینے کی مذموم کوشش کی ہے۔

ادھر ایرانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے دورے پر جانے والے وفد کو حج سے متعلق امورکو حتمی شکل دینے کا ٹاسک دیا گیاہے۔ ایران نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ماضی کی طرح اس سال بھی ایرانی عازمین حج کو ہرممکن تحفظ فراہم کرے اور انہیں دیگر حجاج کرام کی طرح سہولیات مہیا کرے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان حج کے معاملے پر چند ہفتے قبل اس وقت اختلافات پیدا ہوگئے جب تہران نے ریاض کے وضع کردہ حج پروٹوکول کی منظوری سے انکار کرتے ہوئے الزام عاید کیا تھا کہ سعودی عرب ایرانی شہریوں کو فریضہ حج کی ادائی سے روک رہا ہے۔ سعودی عرب کا موقف ہے کہ وہ سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر تمام ممالک سے آنے والے عازمین حج کی آمد ورفت کے لیےضابطہ اخلاق وضع کررہا ہے، جس کی پابندی تمام مسلمان ملکوں کے لیے ضروری ہے۔