.

شام میں زخمی اور لاشیں ہسپتالوں سے غائب ہونے لگیں

لوگ حیران ہیں کہ اسپتالوں میں لائے گئے افراد کہاں جاتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے ساحلی علاقوں میں سوموار کے روز ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں 150 افراد کی ہلاکت کے بعد سوشل میڈیا پر حیران کن خبریں گردش کررہی ہیں جن میں بتایا جا رہا ہے کہ ساحلی علاقوں کے اسپتالوں میں لائے گئے زخمی اور میتیں پراسرار طورپر لاپتا ہورہی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سماجی کارکنوں نے ’فیس بک‘ پر بنے صفحات پر میتوں اور زخمیوں کی پراسرار گم شدگی کے بارے میں حیرت کا اظہار کیا ہے اور بتایا ہے کہ اب تک ایسے کئی زندہ اور مردہ افراد نہ صرف اسپتالوں سے غائب ہوگئے ہیں بلکہ اسپتالوں میں ان کے اندراج کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں ہے۔

مختلف سوشل صفحات پر بتایا گیاہے کہ اسپتالوں میں علاج کے لیے لائے گئے زخمی، میتیں اور ان کے ساتھ آنے والے افراد بھی غائب ہونے لگے ہیں مگریہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ وہ کہاں جا رہے ہیں کیونکہ اسپتالوں میں لائے جانے کے کچھ دیر بعد ان کا نام و نشان تک نہیں ہوتا۔

حال ہی میں ایک 80 سالہ بوڑھے زخمی کوجبلہ اسپتال لایا گیا۔ کامل بلول نامی اس زخمی کے بارے میں کوئی پتا نہیں چل سکاکہ وہ کہاں گیا۔ ایک مقامی شہری نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس نے کئی ایسے افراد کو دیکھا جو اسپتال میں زخمی حالت میں علاج کےلیے لائے گئےمگر بعد میں ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔

گم شدگان میں ایک نرس بھی شامل ہے۔ رھام عیسیٰ عباس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ بم دھماکوں میں زخمی ہونے کے بعد اسے اسپتال لایا گیا مگر اب اس کا نام ونشان تک نہیں۔

جبلہ اسپتال کے ذریعے کا کہنا ہے کہ ساحلی علاقوں میں داعش کے حملوں کے بعد لائے گئے زخمیوں اور دیگرمیتوں کی گم شدگی کا معاملہ حقیقت پرمبنی ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اسپتال سے پراسرار طورپر غائب ہونے والے افراد جبلہ شہر سے باہر نہیں جاسکتے کیونکہ شہر کی مکمل طورپر ناکہ بندی ہے۔ مگر یہ سوال اسپتال انتظامیہ اور عام شہری بھی اٹھا رہے ہیں کہ آیا اسپتالوں میں لائے گئے زخمی اور میتیں غائب کیسے ہو رہی ہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ میتوں کی گم شدگی میں انسانی تجارت میں ملوث مافیا ملوث ہوسکتا ہے اور وہ زخمی کہاں گئے جو اسپتالوں میں علاج کے لیےداخل کیے گئے تھے۔ تاہم زخمیوں اور میتوں کی گم شدگی میں کوئی سیاسی محرک کا امکان مسترد کیا گیا ہے۔